سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 114 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 114

114 نئے مشنوں کا قیام اب ہم ۱۹۴۰ء کی دہائی کے واقعات کا ذکر کر رہے ہیں۔اس دہائی کے دوران ہندوستان آزاد ہوا اور پاکستان اور ہندوستان کی علیحدہ مملکتیں دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئیں۔اور اسی عمل کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام داغ ہجرت پورا ہوا اور مرکز سلسلہ قادیان سے پاکستان میں منتقل ہوا۔ان واقعات کے تسلسل کا آغاز کرنے سے قبل ہم چند نئے ممالک میں تبلیغی جہاد کے آغاز کا جائزہ لیتے ہیں۔ان مشنوں کے قیام کے ساتھ تبلیغ کے کام میں نئی وسعت پیدا ہوئی۔فرانس: اس دور میں یہ ملک ایک بہت بڑی طاقت تھا۔اور افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک اس کی نو آبادیوں میں شامل تھے۔فرانس میں اسلام کا اثر پہلی مرتبہ طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر کے حملوں کے ساتھ پہنچا تھا۔یورپ کے دورے کے دوران ۱۹۲۴ء میں حضرت مصلح موعود فرانس بھی تشریف لے گئے۔حضور کے ارشاد پر تحریک جدید کے دو مجاہدین مکرم ملک عطاء الرحمن صاحب اور مولوی عطاء اللہ صاحب مئی ۱۹۴۶ء میں فرانس بھجوائے گئے۔۲۲ جون ۱۹۴۸ء کو فرانس کی انتظامیہ کی طرف سے تبلیغ کی اجازت ملنے پر باقاعدہ طور پر تبلیغ کا آغاز ہوا۔فرانس میں پہلی روح جسے اسلام اور احمدیت کو قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی وہ ایک تعلیم یافتہ خاتون Madame Margaepite Demagany تھیں، جو ۲۳ مئی ۱۹۴۹ء کو بیعت کر کے میں داخل ہوئیں۔(۱) (۱) الفضل ۹ اگست ۱۹۴۹ء بور نیو اسلام کا پیغام سب سے پہلے یہاں کے مغربی ساحل پر پہنچا تھا۔جہاں پر عرب مسلمانوں کی تبلیغ کے نتیجے میں کثیر تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کیا۔۱۶۰۰ء میں یہاں کا راجہ بھی مسلمان ہو گیا۔