سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 113 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 113

113 اور دوسرے بعض مقامات سے یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ کمیونسٹ گروہ کا ارادہ ہے کہ وہ ہندوستان کے مختلف مذہبی مراکز میں اپنی جماعت قائم کریں گے اور قادیان میں بھی وہ اپنا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔پھر گورنمنٹ کے ذریعہ معلوم ہوا کہ کمیونسٹوں کا ارادہ ہے کہ وہ قادیان میں اپنا مرکز بنائیں۔۱۹۲۰ء کے لگ بھگ جبکہ ابھی یورپ میں بھی کمیونسٹ خیالات معروف نہیں تھے،حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کو رویا دکھائی گئی تھی کہ قادیان کے بعض لوگ کمیونسٹ خیالات کے ہو گئے ہیں گو وہ حسب سابق بظاہر حضور کا احترام کر رہے ہیں مگر وہ اندر سے کمیونسٹ خیالات رکھتے ہیں۔جماعتِ احمدیہ کی روایت یہ ہے کہ وہ ہر نظریے کا مقابلہ دلائل اور دعاؤں کے ذریعہ کرتی ہے۔چنانچہ حضور نے ۲۱ دسمبر ۱۹۴۴ء ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا ”پس جہاں تک عقیدہ کا سوال ہے وہ ان کی اپنی چیز ہے۔ہم کسی کو اس کے عقیدہ سے نہیں روکتے۔بشرطیکہ وہ رخنہ اندازی کا موجب نہ ہو۔اگر ایک شخص علی الا علان اس قسم کے خیالات رکھتا ہے کہ میں نے غور کیا ہے۔مگر مجھے خدا تعالیٰ کی ہستی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔تو اس کے خیالات خدا کے سامنے ہیں۔وہی اس کا فیصلہ کرے گا۔ہمیں اس کی باتیں سن کر جہاں تک اس کے خیالات کا سوال ہے اس پر کوئی غصہ نہیں ہوگا۔مگر مخفی طور جماعت کے اندر رہ کر دھوکہ اور فریب سے لوگوں کو اپنے خیالات میں مبتلا کرنے کی کوشش کرنا یہ منافقت ہے۔اندر ہی اندر بچوں اور نو جوانوں کو ورغلانے کی کوشش کرنا یہ دھوکہ اور فریب ہے۔جماعت کے علماء اور واقفین اور مدرسہ اور جامعہ کے طلباء بھی اچھی طرح کمیونسٹ تحریک کا مطالعہ کریں۔اور ان کے جوابات سوچ چھوڑیں۔اور اگر کسی امر کے متعلق تسلی نہ ہو تو میرے ساتھ بات کر لیں۔اسی طرح کالج کے پروفیسروں اور سکولوں کے اساتذہ کو چاہئیے کہ کمیونسٹ تحریک کے متعلق اپنا مطالعہ وسیع کریں۔اور کوئی کمی رہ جائے۔تو مجھ سے مل کر ہدایت لے لیں۔اور اس رنگ میں اس تحریک کے متعلق جواب سوچ رکھیں کہ ان کا پوری طرح سے رد کر سکیں۔‘ (1) (۱) الفضل ۱۴ مارچ ۱۹۴۴ء ص ۱۱ (۲) رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۶۱ ص۸۲ (۳) الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۶۶، ص ۷ (۴) الفضل ۱۴ مارچ ۱۹۴۴ء ص ۱۲ ۱۳ (۵) الفضل ۳۱ مارچ ۱۹۴۴ء ص ۴۰۳۰۱ (۶) الفضل ۲۵ دسمبر ۱۹۴۴ء ص ۳