سلسلہ احمدیہ — Page 2
2 اور مشرقی یورپ میں اپنے فرائض ادا کر رہے تھے۔یقیناً دنیا کی نظریں آج بھی جماعت احمد یہ کو حقیر سمجھ رہی تھیں اور وہ اسے ایک کمزور گروہ خیال کر رہے تھے۔مگر خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا بڑھ رہا تھا اور مضبوط ہو رہا تھا۔اس کی شاخیں ہر طرف پھیل رہی تھیں۔۱۹۳۹ء کا سال جماعت احمد یہ کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس سال جماعت کے قیام پر پچاس سال مکمل ہو رہے تھے۔نیز حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خلافت کے چھپیں سال مکمل ہونے پر خلافت جو بلی منانے کے ایام قریب آرہے تھے۔اسی سال حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے جماعتی تاریخ کی مختصر کتاب کو تحریر فرمایا اور اس میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاندانی پس منظر، دعاوی اور تعلیمات کا مختصر ذکر کرنے کے بعد ۱۹۳۹ ء تک جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ رقم فرمائی۔اس سال جو بلی جلسے سے قبل یہ کتاب شائع ہو کر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکی تھی۔ہم اس مضمون کو وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ختم فرمایا تھا۔سب سے پہلے ہم ایک نئے خطے یعنی مشرقی افریقہ میں جماعت کے آغاز اور مشن کے قیام اور تبلیغی مساعی کا جائزہ لیتے ہیں۔اور اس کے بعد دنیا بھر میں جاری تبلیغی مساعی اور ان کے ثمرات کا مختصراً جائزہ لیں گے۔