سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 1 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 1

1 بدالله الحالي اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ الہی سلسلوں کی مخالفت ضرور ہوتی ہے اور بدخواہ اللہ تعالیٰ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانے کی پوری کوشش کرتے ہیں مگر بالآخر وہ نا کام ہوتے ہیں۔چنانچہ جماعت کی مخالفت میں بھی ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا۔کفر کے فتوے تیار کئے گئے۔استہزاء کیا گیا۔جب اس سے بھی کچھ نہ بنا تو جھوٹے مقدمات بنائے گئے مگر اللہ تعالیٰ کا قوی ہاتھ اپنے مامور کی حفاظت کرتا رہا۔سب معاندین نے آپس میں اختلافات بھلا کر مشتر کہ زور لگایا مگر پھر بھی ناکام رہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوا تو اس ناکام گروہ نے سکھ کا سانس لیا کہ اب تو اس سلسلے کا خاتمہ ہونا یقینی ہے مگراللہ تعالیٰ کے وعدے بچے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو دوام بخشنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جماعت میں خلافت کا نظام قائم فرمایا اور خدا نے قدرتِ ثانیہ کے ذریعہ اپنے لگائے ہوئے پودے کی حفاظت فرمائی۔بہت سے اندرونی فتنے طوفان کی طرح اٹھے اور گرد کی طرح بیٹھ گئے وہ خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔پھر احرار نے ایک طوفانِ بدتمیزی اٹھایا۔کچھ انگریز افسران کی پیٹھ ٹھونک رہے تھے۔مگر ۱۹۳۹ء میں وہ بھی جھاگ کی طرح بیٹھتے نظر آرہے تھے۔ان کا زور ٹوٹ چکا تھا۔دوسری طرف جماعت نہ صرف ہندوستان میں ترقی کر رہی تھی بلکہ اب برصغیر سے باہر بھی بہت سے ممالک میں ہزاروں سعید روحیں احمدیت کے دامن میں پناہ لے رہی تھیں۔انگلستان اور یورپ میں مشن قائم ہو چکے تھے۔امریکہ میں جماعت قائم ہو گئی تھی۔مغربی افریقہ میں احمدیت تیزی سے پھیل رہی تھی۔جاوا اور سماٹرا میں بہت سے لوگ صداقت کو قبول کر چکے تھے۔نامساعد حالات کے باوجود مبلغین جنوبی امریکہ ، چین ، سنگا پور