سلسلہ احمدیہ — Page 107
107 حالات میں حضور نے تقریر شروع فرمائی جو باوجود مخالفین کی تمام کوششوں کے ساڑھے تین گھنٹے جاری رہی۔حضور نے فرمایا کہ پیشگوئی میں مصلح موعود کی ایک علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ علومِ ظاہری و باطنی علوم سے پر کیا جائے گا۔اور یہ ایسی صاف اور واضح علامت ہے کہ اسے با آسانی معلوم کیا جاسکتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ میں تمام علماء کو چیلنج دیتا ہوں کہ میرے مقابل پر قرآن کریم کی تفسیر لکھیں۔اور جتنے لوگوں سے اور جتنی تفسیروں سے چاہیں مدد لے لیں۔مگر خدا کے فضل سے پھر بھی مجھے فتح حاصل ہو گی۔اس تقریر کے دوران وہ ہزاروں مفسدین جو جلسہ درہم برہم کرنے آئے تھے اردگرد شور مچاتے رہے اور گالیاں دیتے رہے۔آخر جب یہ گروہ خواتین کے مجمع کی طرف بڑھا اور سخت خطرہ پیدا ہوا تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ سو آدمی عورتوں کی حفاظت کیلئے چلے جائیں۔باقی سب بیٹھے رہیں۔یہ شور مچانے والے اگر عورتوں پر حملہ کریں تو ان کو دکھا دو کہ احمدی اس طرح مقابلہ کرتے ہیں۔اگر تم میں سے کوئی کمزور دل ہو تو وہ نہ جائے اس کی جگہ میں جانے کو تیار ہوں۔صرف سواحمد یوں نے اپنے سے کئی گنا بڑے مجمع کو پسپا کر دیا جو خون کی ندیاں بہانے آئے تھے۔اس وقت مخالفین نے یہ سمجھتے ہوئے کہ اب ان کی تعداد زیادہ ہو چکی ہے ایک بار پھر جلسہ گاہ پر حملہ کر دیا اور جو احمدی نوجوان پہرے پر کھڑے تھے ان پر پتھر برسانے شروع کر دئے۔ان میں سے کئی نوجوان زخمی ہو گئے۔جلسہ کے بعد سب سے پہلے خواتین کو لاریوں میں بھجوایا گیا۔حفاظت کے لئے کچھ نوجوان بھی ان لاریوں کے ساتھ تھے۔ان بد باطن مخالفین نے ان لاریوں پر حملہ کر کے اپنے گرے ہوئے اخلاق کا مزید ثبوت مہیا کیا۔مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان احمدیوں نے ان کا مقابلہ کیا اور یہ حملہ آور باوجود کئی گنا تعداد کے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ گئے۔اس سنگباری سے چالیس پچاس احمدی زخمی ہوئے۔حضور کے داماد میاں عبدالرحیم احمد صاحب بھی شدید زخمی ہو گئے اور ایکسرے پر معلوم ہوا کہ سر کی ہڈی تین جگہ سے فریکچر ہو گئی ہے۔بعض نوجوانوں پر اتنے پتھر بر سے کہ جب وہ واپس آئے تو سر سے پاؤں تک خون میں نہائے ہوئے تھے۔جلسے کے بعد کچھ احباب نے بیعت کی۔اس طرح باوجود مخالفین کی تمام مذموم حرکات کے جماعت کا جلسہ مکمل ہوا۔احمدیوں نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے اپنی جھولیاں بھریں اور مولویوں اور ان کی پیروی کرنے والوں نے اوباشانہ حرکات کر کے اپنا نامہ اعمال سیاہ کیا۔یہ واقعہ جماعتی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔