سلسلہ احمدیہ — Page 106
106 رہے تھے ، بھانڈوں کی طرح گری ہوئی حرکتیں کر رہے تھے۔آخر ہر برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے۔(۷ تا ۱۰) لدھیانہ کے جلسے کے ساتھ مخالفت کا جوش وحشیانہ جنون میں تبدیل ہو چکا تھا۔اسی ماحول میں جماعت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ۱۶ اپریل ۱۹۴۴ء کو جماعت اللہ تعالیٰ کے اس نشان کے ظاہر ہونے کی خوشی میں دہلی میں جلسہ کرے گی۔دہلی میں جماعت کی مخالفت کی ایک پرانی تاریخ ہے۔جب ۱۸۹۱ء میں حضرت مسیح موعود دیلی تشریف لے گئے تو اہلِ دہلی کی طرف سے گرے ہوئے انداز میں حضور کی مخالفت کی گئی تھی۔جس مکان میں آپ رونق افروز تھے اس پر کئی مرتبہ پتھراؤ بھی کیا گیا تھا۔دعویٰ مصلح موعود کے بعد جب جماعت کی طرف سے دہلی میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا گیا تو مخالفت کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔مخالف مولویوں کی طرف سے اشتعال انگیز تقریروں کا سلسلہ شروع کیا گیا، جماعت کے اشتہارات اتار کر مخالفانہ اشتہارات لگائے گئے ، حکومت کو درخواستیں دی گئیں کہ جماعت کے جلسے کو روکا جائے۔اور یہ دھمکیاں بھی دی گئیں کہ خون کی ندیاں بہہ جائیں گی مگر اس جلسے کا انعقاد نہیں ہونے دیا جائے گا۔بہر حال مقررہ تاریخ کو چار پانچ ہزار کی تعداد میں احمدی دہلی کے جلسے میں شرکت کے لئے پہنچ گئے۔جلسے کے لئے ہارڈ نگ لائیبریری سے متصلہ میدان کا انتخاب کیا گیا تھا۔بہت سے غیر از جماعت احباب بھی جلسے میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے۔بہت سے مخالفین فساد کی نیت سے مجمع کے اندر بیٹھے ہوئے تھے اور ہزاروں مخالفین کے ہجوم نے جلسہ گاہ کو گھیرا ہوا تھا۔جلسہ کی کاروائی تلاوت قرآنِ کریم سے شروع ہوئی۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد تلاوت کر رہے تھے۔ایک مقام پر انہوں نے زبر کی جگہ زیر پڑھ دی۔مخالفین تو کسی موقع کی تاک میں تھے۔یہ سن کر انہوں نے شور مچا دیا کہ قرآن غلط پڑھا جا رہا ہے۔اور ایک گروہ گالیاں دیتا ہو اسٹیج کی طرف بڑھا۔جماعت کے کچھ افراد نے ان کو روک کر جلسہ گاہ سے باہر نکال دیا۔اس دوران ہزاروں کا مجمع جلسہ گاہ کے باہر کھڑا گالیاں نکال رہا تھا اور جلسہ گاہ پر پتھر برسائے جا رہے تھے۔جب کارکنان ان مفسدوں کو جلسہ گاہ سے باہر نکال رہے تھے تو ان شورش پسندوں نے کارکنان کو مارنا شروع کر دیا۔اس پر جب بعض احمد یوں نے جواب دینا شروع کیا تو حضور نے ہدایت دی کہ ان سے تعرض نہ کرو اور واپس آجاؤ اور اگر مار پڑے تو برداشت کرو۔ان خطرناک