سلسلہ احمدیہ — Page 702
702 دی گئی تھی۔آپ وہ اراکین مجلس انتخاب خلافت ہیں جن کا کام اپنے حلف کے مطابق جو آپ نے ابھی اُٹھایا ہے نئے خلیفہ کا انتخاب کرنا ہے۔سواب آپ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کو مد نظر رکھتے ہوئے جو امانت انتخاب خلیفہ آپ کے سپرد کی گئی ہے اسے پوری دیانت کے ساتھ ادا کریں اور اپنی رائے پیش فرمائیں۔اس کے بعد انتخاب خلافت کرایا گیا اور اراکین کی بہت بھاری اکثریت کی آراء کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے فرزند اکبر حضرت مرزا ناصر احمد سلمہ رتبہ خلیفہ امسیح الثالث منتخب ہوئے۔ایک خلیفہ کی وفات کے بعد ایک الہی جماعت کی جو حالت ہوتی ہے وہ ایک الہلی جماعت ہی سمجھ سکتی ہے۔اور جب اس غم واندوہ کی حالت میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا جلوہ دکھاتا ہے اور ایک اور وجود اُس کی تائید کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو ہر مومن محسوس کرتا ہے کہ اُس کے دل پر آسمان سے تسکین نازل ہو رہی ہے۔اور جیسا کہ آیتِ استخلاف میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے مومنوں کی خوف کی حالت امن میں بدل دی جاتی ہے۔یہ کیفیت لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی صرف محسوس کی جاتی ہے۔اس مرحلہ پر محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اور محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس نے صاحب صدر حضرت مرزا عزیز احمد صاحب سے اجازت لے کر جماعتی اتحاد کی برکات اور حضرت خلیفة أسبح الثالث" کے انتخاب میں خدائی ہاتھ کا ذکر کرتے ہوئے مختصر تقاریر کیں۔دل مطمئن تھے اور زبانوں پر الحمد للہ کے الفاظ تھے۔حضرت مصلح موعودؓ کے مقرر شدہ قواعد کی رو سے بیعت لینے سے پہلے منتخب ہونے والے خلیفہ کے لئے قواعد مقررہ کے مطابق ضروری تھا کہ وہ مقررہ حلف اُٹھائے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے کھڑے ہوکر تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد رقت بھرے الفاظ میں یہ عہد دہرایا میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں خلافتِ احمدیہ پر ایمان لاتا ہوں اور میں ان لوگوں کو جو خلافت احمدیہ کے خلاف ہیں باطل پر سمجھتا ہوں اور میں خلافتِ احمدیہ کو قیامت تک جاری رکھنے کے لئے پوری کوشش کروں گا اور اسلام کی تبلیغ کو کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے انتہائی کوشش کرتا رہوں گا۔اور میں ہر