سلسلہ احمدیہ — Page 680
680 میں یہ عمارات مکمل ہو گئیں۔(۱۰) ۱۹۵۰ء میں جماعت احمد یہ انڈونیشیا کے دوسرے جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت مصلح موعود نے ایک پیغام بھجوایا۔اس میں حضور نے فرمایا '۔مجھے اس بات پر بھی خوشی ہے کہ انڈونیشیا کے نو جوان تعلیم کے لئے احمد یہ مرکز میں آتے رہتے ہیں۔گواتنی توجہ اس طرف نہیں ہوئی جتنی کہ ہونی چاہئیے تھی۔میں سمجھتا ہوں اور تجربہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انڈونیشیا ان ممالک میں سے ہے جن کے لئے خدا تعالیٰ نے سعادت مقدر کی ہوئی ہے۔انڈونیشین لوگوں میں مجھے وہ کبر نظر نہیں آتا جو بعض دوسرے ممالک کے لوگوں میں نظر آتا ہے۔ان کی طبائع میں صلاحیت اور نرمی ہے۔۔۔مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ انڈونیشیا ان ممالک میں سے ہے جن میں ارتداد بہت کم ہوتا ہے۔جو مانتے ہیں بچے طور پر مانتے ہیں۔بعض اور ممالک میں یہ نقص پایا جاتا ہے کہ ایمان اور ارتداد بالکل اسی طرح چلتے ہیں جس طرح دو متوازی لیکن مختلف اطراف میں بہنے والے دریا۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اور بھی زیادہ اپنے عملی نمونہ اور تعلیم اور تربیت کے ساتھ اس بات کو ناممکن بنا دیں گے کہ کوئی شخص احمدیت میں داخل ہو کر پھر اُس سے واپس لوٹے۔“ ۱۹۵۱ء میں جماعت احمدیہ پاڈانگ نے مشن ہاؤس بنایا اور تاسکملایا کی جماعت نے ایک با موقع جگہ پر عمارت خرید کر اسے مشن ہاؤس میں تبدیل کر دیا اور جکارتہ میں مسجد کو وسیع کر کے از سر نو تعمیر کیا گیا۔(۱۱) اب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ ۱۹۵۲ء میں انڈونیشیا کے کن علاقوں میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی جاری تھیں۔جزیرہ بالی کی اکثریت ہندو مذہب سے وابستہ ہے۔یہاں پر میاں عبدالحی صاحب مبلغ کے طور پر کام کر رہے تھے۔مشرقی جاوا کے مرکزی شہر سرا بایا میں مکرم مولوی زہدی صاحب دوروں ، تقریروں اور ملاقاتوں کے ذریعہ تبلیغ کر رہے تھے۔وسطی جاوا میں مکرم مولوی عبدالواحد سماٹری صاحب مصروف تبلیغ تھے۔یہاں کے بڑے مقامات جو گجا اور سمارنگ میں جماعتیں موجود تھیں۔مغربی جاوا میں مکرم ملک عزیز احمد صاحب کام کر رہے تھے۔اور سماٹرا کے وسطی