سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 681 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 681

681 حصہ میں مکرم عبد الرشید صاحب مرکزی مبلغ کے طور پر کام کر رہے تھے۔اور انڈونیشیا کی جماعت کا مرکز جکارتہ میں تھا۔جہاں مکرم سید شاہ محمد صاحب امیر و مشنری انچارج کے طور پر فرائض ادا کر رہے تھے۔(۱۲) ۱۹۵۴ء میں مکرم صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب ابن حضرت مصلح موعودؓ بطور مبلغ انڈونیشیا تشریف لائے اور تقریباً دو سال وہاں پر کام کیا۔۱۹۵۶ء میں پاڈانگ میں نئی مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا گیا اور ایک اور مسجد جاتی کے مقام پر بنائی گئی۔اور اسی سال لاحت (Lahet) کے مقام پر مشن ہاؤس بنایا گیا۔(۱۳) ۱۹۵۵ء میں انڈونیشیا میں جماعت کے مبلغ مکرم حافظ قدرت اللہ صاحب نے ایک رپورٹ میں عیسائیوں کے اسکولوں اور ان کی نتیجے میں پیدا ہونے والے اثر ورسوخ کا ذکر کیا۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا وہاں لٹریچر شائع کرنا چاہیئے۔اور عیسائیت کے متعلق تو فوراً لٹریچر تیار کیا جائے۔نیز ہمیں مشورہ دیں کہ کس قسم کا لٹریچر آپ کو چائیے۔اسوقت یہ بڑا عمدہ موقع ہے۔عیسائیت ہی ہمارا شکار ہے۔آپ اگر اسمیں کامیاب ہو جائیں تو مسلمان آپ کے ساتھ مل جائیں گے۔مسلمان طلبہ سے تعلقات بڑھائیں۔سکول کھولنے کی طرف توجہ دیں۔اس سے بھی کامیابی ہو گی۔مغربی افریقہ میں ہمارے اسکول کھلے ہوئے ہیں اور کامیابی ہوتی ہے۔(۱۴) مکرم ملک عزیز احمد صاحب نے نومبر ۱۹۵۸ء میں انڈونیشین زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ مکمل کیا۔اور ۱۹۵۸ء میں جلسہ سالانہ کے ساتھ ہی خدام الاحمدیہ کا پہلا اجتماع منعقد ہوا۔اس سال کے دوران انڈونیشیا میں 4 نئی جماعتوں کا اضافہ ہوا۔اور سورا بایا اور چری بون میں مسجد میں بنائی گئیں۔۱۹۵۹ء میں جو گجا کرتا کے مقام پر مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی۔اُس دور میں پوروو کر تو ( Porvokorto) میں جماعت کا ایک مڈل اسکول کام کر رہا تھا (۱۵)۔نئی جماعتوں کے قیام کا سلسلہ جاری تھا، چنانچہ ۱۹۶۰ء میں بھی تین نئی جگہوں میں جماعتیں قائم ہوئیں۔مکرم ملک عزیز احمد صاحب جو ۱۹۳۶ء سے انڈونیشیا میں مصروف جہاد تھے ، ۱۹۶۲ء