سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 545 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 545

545 قبل ووکنگ میں اہلِ پیغام کے مبلغ کے زیر اثر تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فقط ایک مجدد خیال کرتے تھے۔لیکن جب مکرم کمال یوسف صاحب نے حقیقۃ الوحی سے حوالہ پیش کیا جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام واضح ہوتا تھا تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام کو فورا تسلیم کر لیا۔اُس دور میں غیر از جماعت پاکستانی سکینڈے نیویا میں آنا شروع ہوئے اور ان کے ساتھ ان کے کچھ علماء بھی داخل ہوئے۔ان پاکستانی مولویوں نے حقیقۃ الوحی کی عربی عبارت کے ایک حصہ کے ترجمہ میں تحریف کر کے اس کی بنیاد پر احمدیت کے خلاف زہر گھولنا شروع کیا۔لیکن جب احمدی مبلغ نے صحیح عبارت دکھائی تو اس زہر کا تریاق ہو گیا۔کچھ عرصہ کے بعد مشن گوٹن برگ سے سویڈن کے شہر سٹاک ہالم منتقل کر دیا گیا کیونکہ وہاں پر تین ہزار مسلمان موجود تھے اور اسلامی سوسائٹی بھی موجود تھی۔وہاں پر کمال یوسف صاحب نے ڈیڑھ سال تک تبلیغی سرگرمیاں جاری رکھیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اس علاقے میں تبلیغ اسلام کی مہم میں گہری دلچسپی لے رہے تھے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب مشن کو گوٹن برگ سے سٹاک ہالم منتقل کیا جارہا تھا تو حضور نے ہدایت جاری فرمائی کہ تبشیر فوری توجہ کرے۔چپ کر کے نہ بیٹھ جائے۔رپورٹ کرنی ہے۔ہر ہفتہ ایک دفعہ رپورٹ آئے کہ کیا کر رہے ہیں؟ اکتوبر ۱۹۵۶ء میں مرکز کی طرف سے کمال یوسف صاحب کو ہدایت بھجوائی گئی کہ مسجد اور مشن ہاؤس کیلئے زمین خریدنے کی کوشش کی جائے۔ایک طرف تو جماعت احمد یہ اسلام کی تبلیغ کے لئے کوشاں تھی اور دوسری طرف بعض مسلمان اس راہ میں روڑے اٹکا رہے تھے۔چنانچہ جلد ہی مصری سفارت خانے نے عرب اور ترک مسلمانوں کو تحریک کی کہ وہ احمدی مبلغ سے کسی قسم کا تعاون نہ کریں۔اس وقت وہاں پر متعین سفیر صاحب جماعت کی مخالفت کرتے رہتے تھے۔(۱) لیکن ایک ایک کر کے سعید روحوں پر اسلام کی حقانیت آشکار ہو رہی تھی۔کچھ عرصہ سٹاک ہالم میں مشن کام کرتا رہا، پھر اگست ۱۹۵۸ء میں اسے ناروے کے شہر اوسلو میں منتقل کر دیا گیا۔اور وہاں سے سکنڈے نیویا میں اسلام کی تبلیغ کا کام شروع کیا گیا۔سکینڈے نیویا میں جب جماعت نے تبلیغ کے کام کا آغاز کیا تو مبلغ صرف ایک کمرہ کو ہی کرایہ پر لے سکتا تھا اور اسی کمرے کو مشن ہاؤس کے۔