سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 546 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 546

546 طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔جب لوگوں کا آنا جانا شروع ہوتا تو گھر والے تنگ پڑ جاتے اور یہ کمرہ خالی کرالیا جا تا۔اس وجہ سے ابتداء میں کمال یوسف صاحب کو بار بار ر ہائش تبدیل کرنی پڑی۔ایک بار ڈنمارک میں بہت اچھی رہائش ملی۔وہاں پر یورپ میں جماعت کے مبلغین کی کانفرنس ہو رہی تھی۔سپین کے مبلغ مکرم کرم الہی صاحب ظفر کمال یوسف صاحب کی رہائش دیکھنے آئے اور دیکھ کر چلے گئے۔اس وقت کرم الہی ظفر صاحب نے پگڑی پہن رکھی تھی۔کمال یوسف صاحب جب گھر واپس آئے تو دیکھا کہ اہلِ خانہ منہ بسورے بیٹھے ہیں۔اور انہیں دیکھ کر کہنے لگے کہ ہمارا گھر چھوڑ دو کیونکہ ہمارے ہمسائے پوچھ رہے تھے کہ یہ پگڑی والا کون تھا۔اس طرح ہماری انگشت نمائی ہوتی ہے۔جب کمال یوسف صاحب ناروے آئے تو تقریباً لگاتار چھ ماہ یوتھ ہاسٹل میں رہنا پڑا کیونکہ کوئی کمرہ کرایہ پر نہیں ملتا تھا۔یوتھ ہاسٹل میں صرف تین دن رہنے کا حق ہوتا ہے۔اس کے بعد وہ وارڈن کے رحم وکرم پر تھے۔(۲) جماعتی زندگی میں مساجد ایک مرکز کی حیثیت رکھتی ہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے۔یہ خانہ خدا ہوتا ہے۔جس گاؤں یا شہر میں ہماری جماعت کی مسجد قائم ہو گئی تو سمجھو جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑ گئی۔اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو ایک مسجد بنا دینی چاہیے پھر خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گا۔لیکن شرط یہ ہے کہ قیام مسجد میں نیت بہ اخلاص ہو۔محض اللہ اسے کیا جاوے۔نفسانی اغراض یا کسی شر کو ہرگز دخل نہ ہو تب خدا برکت دے گا۔(۴) مساجد کی اس اہمیت کے پیش نظر جب حضرت مصلح موعودؓ نے محسوس فرمایا کہ مسجد کی تعمیر میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے تو نومبر ۱۹۵۸ء کی رپورٹ پر حضور نے فرمایا، اب تک آپ نے سٹاک ہالم میں مسجد کے لئے جگہ نہیں لی۔بڑا کام بیعتیں نہیں ہے بلکہ مسجد کی تعمیر ہے۔‘(۱) ان ممالک میں اسلام قبول کرنے والے احباب خود اپنی ذات میں تبلیغ کا ایک مؤثر ذریعہ بن