سلسلہ احمدیہ — Page 542
542 حصول کے سلسلے میں جماعت کے ساتھ تعاون کرتے رہے۔اُس وقت سیاسی مصالح کی بنا پر حکومت نے ایک شامی کو مسلمانوں کا پبلک ریلیشن آفیسر مقرر کیا ہوا تھا۔یہ صاحب فری میسن سوسائٹی کے ممبر بھی تھے۔تاہم یہاں پر بعض مسلمانوں نے شرافت کا رویہ بھی دکھایا۔مراکش سے آئے ہوئے ایک عالم نے لیکچر دیتے ہوئے مسلمانوں سے کہا کہ احمدی سچے مسلمان ہیں اور اسلام کی بہت خدمت کر رہے ہیں ، اس لئے ان کی کوئی مخالفت نہیں کرنی چاہئیے۔(۷) انفرادی تبلیغ اور لیکچروں کے ذریعہ کام کا آغاز کیا گیا۔جماعت کا لٹریچر تقسیم اور فروخت کیا گیا۔نائیجیریا سے شائع ہونے والا جماعتی جریدہ Truth بھی تبلیغ کے لئے ممد و معاون ثابت ہو رہا تھا۔لائیبیریا کے قبائل میں سے وائی قبیلہ کے لوگ احمدیت میں زیادہ دلچسپی لے رہے تھے۔۔یہ قبیلہ مغربی افریقہ کے دوسرے علاقوں سے یہاں آکر آباد ہوا تھا اور یہ یہاں آنے والے قبیلوں میں سے پہلا قبیلہ تھا جو مسلمان تھا۔ان سے قبل آنے والے قبائل اپنے آبائی مذہب پر تھے اور مڈنگو سے تعلق رکھنے والے ملانے مخالفت میں پیش پیش تھے۔دو ماہ کے اندر فروری ۱۹۵۶ء میں مکرم صوفی محمد الحق صاحب نے حضور کی خدمت میں پہلی دو بیعتوں کی خوش خبری بھجوائی۔مارچ ۱۹۵۶ء کی رپورٹ میں صوفی صاحب نے ایک عربی عالم اسمعیل مالک صاحب کے احمدی ہونے کا ذکر کیا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خواہش تھی کہ ہر ملک کے مقامی باشندے دینی علم حاصل کر کے خدمت دین کے کام میں آگے آئیں۔چنانچہ حضور نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ اسمعیل مالک صاحب کو احمدیت کی تعلیم دے کر مدرس کیوں نہیں بنا لیتے ؟ (۸) یہاں پر بہائیوں نے اپنے مشن کا جال خوب پھیلا رکھا تھا اور یہ اپنے لٹریچر کی خوب اشاعت کر رہے تھے، جس میں اسلامی تعلیمات کو غلط رنگ میں پیش کیا جاتا تھا۔افریقی ممالک میں لائیپیر یا میں ہی بہائیت کا سب سے زیادہ اثر تھا۔مکرم و محترم صوفی محمد الحق صاحب نے ان کے پریذیڈنٹ صاحب سے مل کر تبادلہ خیالات کی دعوت کی۔مشیر اجساد پر بحث ہوئی تو صوفی صاحب نے دلائل دیئے کہ قیامت کبری کے انکار سے تمام انبیاء کی تکذیب لازم آتی ہے۔جب بہائیوں کے پریذیڈنٹ صاحب سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگے تم پاگل ہو۔اس پر صوفی الحق صاحب نے ان کا شکریہ ادا کیا۔صوفی صاحب کی آمد کے تقریباً ایک سال بعد ایک امریکی اپنی بیوی کے