سلسلہ احمدیہ — Page 523
523 فوجیوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔مرزا بشیر الدین محمود کے مخالفوں کی خانہ تلاشیاں ہو رہی ہیں۔(۶۲) اس شور وغوغا کو کچھ دیر کے لئے چھوڑ کر ہم اصل واقعات کی طرف واپس آتے ہیں۔جب ان مفسدین نے حضور کی طرف سے بتائے گئے طریق سے کوئی استفادہ نہیں کیا تو پھر حسب قواعد نظام جماعت حرکت میں آیا اور ربوہ ، لاہور اور دوسری جماعتوں نے ریزولیشن کی صورت میں ۱۳ مفسدین کے متعلق سفارش بھجوائی کہ اپنی حرکات کی وجہ سے انہوں نے خود جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اس لئے ان کے اخراج از نظام جماعت کی سفارش کی جاتی ہے۔اس پر کاروائی کرتے ہوئے صدر انجمن احمدیہ نے حضور کی خدمت میں مولوی عبد المنان صاحب ، مولوی عبد الوہاب صاحب ، غلام رسول صاحب، عبد الحمید صاحب ڈاہڈا صاحب وغیرہ کے اخراج از نظام جماعت کی سفارش کی۔اور حضور نے یہ سفارش منظور فرمالی اور یہ اعلان ۲۳ اکتوبر ۱۹۵۶ء کے الفضل میں شائع کر دیا گیا۔مفسدین کی مایوسی ، ایک اور زہریلا وار پہلے تو فتنہ پروروں کو یہ امید تھی کہ احمدیوں کی ایک خاطر خواہ تعداد اُن کا ساتھ دے گی اور نظام خلافت سے بدظن ہو جائے گی۔چنانچہ نوائے پاکستان نے یہ دعویٰ شائع کیا کہ اخراج از جماعت کے اعلان کے بعد بہت جلد جماعت کے عہدیداروں کی ایک بڑی تعداد نظام خلافت کے خلاف اُٹھ کھڑی ہو گی اور دنیا حیران رہ جائے گی اور یہ بھی لکھا کہ جلد مرزا بشیر الدین محمود احمد پاکستان سے چلے جانے پر مجبور ہو جائیں گے (۶۹)۔مگر وہ احمقوں کی جنت میں رہ رہے تھے۔جیسا کہ حضرت مصلح موعود گو رویا میں دکھایا گیا تھا ان کی پشت پناہی کرنے والے چند منافقین نے بھی انہیں تنہا چھوڑ دیا اور وہ بڑی حسرت سے اپنی سازش کو ناکام ہوتا دیکھ رہے تھے۔کوئی بھی ان کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہو رہا تھا۔جماعت پر ان کی حقیقت کھل چکی تھی۔ایسی صورت میں ہمیشہ دشمن غیظ و غضب سے بھر کر پہلے سے بھی زیادہ زہریلا وار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس موقع پر بھی ایسا ہی ہوا۔چند دن بعد ۲۶ اکتوبر ۱۹۵۶ء کو جماعت کے اشد مخالف اخبار آزاد میں یہ خبر شائع ہوئی