سلسلہ احمدیہ — Page 494
494 حضرت مصلح موعود اپنے بیٹے کو خلیفہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ حق دوسرے لوگوں کا ہے۔اور جیسا کہ حضرت عثمان کے زمانے میں ہوا یہ مفسدین آئندہ خلیفہ کے لئے کبھی ایک شخص کا نام لیتے اور کبھی دوسرے شخص کا نام لیتے۔زیادہ تر جماعتیں پنجاب میں تھیں اور لاہور پنجاب کا صدر مقام تھا۔حضرت عثمان کے دور کے فتنہ پروروں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ، ان میں سے بعض نے لاہور میں یہ پراپیگنڈا کرنا شروع کر دیا کہ اب خلیفہ بوڑھا ہو گیا ہے۔انہیں معزول کر کے کسی اور خلیفہ مقرر کرنا چاہئیے۔جب سازش واضح ہونے لگی تو خلافت سے منحرف پیغامیوں نے اپنے اخبار پیغام صلح میں اس سازش کی پشت پناہی شروع کر دی۔اور یہ پشت پناہی صرف پیغام صلح تک محدود نہ تھی بلکہ ملک کے بعض چوٹی کے اخبارات بھی ایک منظم انداز میں اس سازش کا ساتھ دے رہے تھے۔جس طرح حضرت عثمان کے وقت میں آنحضرت ﷺ کے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق کا ایک بدنصیب بیٹا حضرت عثمان کے خلاف فتنہ میں شامل ہو گیا تھا، اسی طرح حضرت خلیفہ اسیح الاول کی اولاد بھی ۱۹۵۶ء کے فتنے میں شامل ہوگئی۔اس فتنہ کے شروع ہونے سے چند ماہ قبل حضرت خلیفہ اسیح الاول کے صاحبزادے عبد السلام صاحب عمر کی وفات ہوئی۔جودھامل بلڈنگ لا ہور میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی۔ابھی آپ نے پہلی تکبیر کے لئے ہاتھ اٹھائے تھے کہ آپ پر کشفی حالت طاری ہوگئی۔آپ نے دیکھا کہ آپ کے دائیں طرف حضرت خلیفہ اسیح الاول تشریف لائے ہیں ، آپ کا قد کافی لمبا نظر آتا ہے اور آپ کچھ جھکے ہوئے ہیں اور افسردہ نظر آ رہے ہیں۔اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی طبیعت کے برعکس یہ کشف الفضل میں شائع بھی کر دیا۔اُس وقت یہی تعبیر کی گئی کہ حضرت خلیفہ مسیح الاول اپنے صاحبزادے کی وفات کی وجہ سے اداس نظر آ رہے ہیں۔مگر بعد کے حالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں آنے والے فتنہ میں آپ کی اولاد سے کئی افراد کے مبتلا ہونے کی طرف اشارہ تھا۔(۷) ۱۹۵۶ء کے فتنہ کا پس منظر : یہ گروہ پہلے بھی جماعت کے اندر اعتراضات کر کے اپنے خیالات لوگوں میں پھیلانے کی