سلسلہ احمدیہ — Page 468
468 راستے میں حضور نے بعلبک کے آثار قدیمہ کی دلچسپی سے سیر کی۔جماعت کے ایک وفد نے بیروت سے بارہ میل باہر آکر حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا استقبال کیا۔ان میں مقامی احباب کے علاوہ جماعت کے مبلغ مکرم شیخ نور احمد منیر صاحب بھی شامل تھے۔بیروت میں حضور کا قیام برج اجی حیدر محلہ میں ایک احمدی دوست السید محمد در خبانی کے مکان میں تھا۔مقامی جماعت کی طرف سے سیکریٹری جنرل مکرم محمد توفیق الصفدی نے ایڈریس پیش کیا۔اس موقع پر طرابلس اور بر جا سے بھی احمدی احباب اپنے امام کی زیارت کے لئے آئے ہوئے تھے۔حضورں نے بیروت میں گاڑی میں ساحلِ سمندر کی سیر کی۔اگلے روز ۸ مئی کی صبح کو حضور اپنے قافلے سمیت سویٹزرلینڈ کے لئے روانہ ہو گئے۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب روم تک حضور کے ساتھ آئے اور پھر ہالینڈ روانہ ہو گئے۔روم سے فلائیٹ تبدیل کر کے حضور TWA کے جہاز میں جنیوا روانہ ہوئے۔(۲۳) سویٹزرلینڈ میں ورود مسعود : حضور کا طیارہ جنیوا پہنچا۔سویٹزرلینڈ میں مبلغ سلسلہ مکرم شیخ ناصر احمد صاحب نے جہاز تک آکر حضور کا استقبال کیا۔حضور کی علالت کے پیش نظر وسیع پیمانے پر پریس کو حضور کی آمد کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔تاہم رائٹر کا نمائیندہ اس موقع پر موجود تھا (۲۴)۔قافلہ رات کو جنیوا لیک کے کنارے ایک ہوٹل میں ٹھہرا۔جنیوا سے اگلے روز حضور بذریعہ ریل گاڑی زیورک روانہ ہو گئے جہاں پر حضور کے طبی معائنوں کا آغاز ہونا تھا۔زیورک میں حضور کے قیام کا انتظام نمبر ۲ Bagonien Strasse پر ایک مکان میں کیا گیا تھا۔اسی شام کو مکرم مشتاق باجوہ صاحب بھی جنیوا سے زیورک پہنچ گئے۔اگلے روز ۱۰ مئی ۱۹۵۵ء کو پروفیسر روسیو (Rossier) نے حضور کا معائنہ کیا اور یہاں پر حضور کا علاج بنیادی طور پر انہی کی زیر نگرانی ہوا۔پروفیسر روسیو نے مختلف ٹسٹ تجویز کئے۔اور اسی روز حضور کا خون کا ٹسٹ اور ای سی جی ہوئی۔امئی کو حضور کے تفصیلی ایکسرے ہوئے۔اس روز حضور کی طبیعت میں بہت گبھراہٹ تھی۔۲ مئی کو حضور نے ایک ہومیو پیتھ ڈاکٹر کو دکھایا۔اور اس روز مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب بھی انگلستان سے زیورک پہنچ گئے۔اس روز حضور کی طبیعت بشاش تھی۔اگلے روز حضور نے جمعہ خود پڑھایا اور خطبہ میں دوستوں کو اس سفر کے بابرکت