سلسلہ احمدیہ — Page 420
420 میں جلسے جلوس دوبارہ شروع ہو گئے اور ے مارچ کو جماعت کے مخالف مقررین پولیس اور فوج سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔۱۰ مارچ تک سیالکوٹ میں فسادات پر قابو پالیا گیا۔گوجرانوالہ کی صورت حال یہ تھی کہ ۸ مارچ کو جب فوج گوجرانوالہ میں داخل ہوئی تو ان کی آمد پر نعرے لگائے گئے پاکستانی فوج نے گولی چلانے سے انکار کر دیا، پاکستانی فوج زندہ باد اور ایسے پوسٹر لگائے گئے جن میں فوج اور پولیس سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور بلوائیوں کے ساتھ شامل ہو جائیں۔یہاں احمدیوں پر تشدد کیا جارہا تھا کہ وہ احمدیت چھوڑ دیں۔پولیس نے پر احمدیوں کی مدد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔۱۱ اور ۱۲ مارچ کو یہاں پر بھی حالات قابو میں آگئے۔راولپنڈی میں بھی فوج کو طلب کرنا پڑا۔جب ۶ مارچ کو راولپنڈی میں یہ اطلاع ملی کہ حکومت پنجاب نے مطالبات تسلیم کر لئے ہیں تو حالات اور بھی نازک ہو گئے۔اور احمدیوں کی ایک مسجد کو آگ لگا دی گئی۔انتظامیہ نے ۷ مارچ کو فوج طلب کر لی۔۸ مارچ کو بھی جلوس نکالے گئے اور پولیس پر خشت باری کی گئی۔فائرنگ سے ایک آدمی ہلاک ہو گیا۔شورش کے ایک ہزار سے زائد رضا کاروں نے گرفتاریاں دیں۔یہاں پر مسلم لیگ کے عہدیدار دوغلی پالیسی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔وہ بظاہر حکام کے حامی تھے مگر در پردہ شورش کی مدد کر رہے تھے۔مارچ کے تیسرے ہفتے میں راولپنڈی میں بھی حالات قابو میں آگئے۔اب لائکپور کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں۔یہاں پر جب دولتانہ صاحب کا اعلان پہنچا تو یہ تاثر لیا گیا کہ حکومت نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔اس سے فسادات میں اور تیزی آگئی۔بعض مسلم لیگی ممبرانِ اسمبلی اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کر رہے تھے۔مارچ غنڈے پن کا دن تھا۔دس ہزار کے مجمع نے کچہریوں پر حملہ کر دیا۔دوکانوں کی لوٹ مار کی گئی۔ٹرینیں روک کر مسافر عورتوں کی عصمت دری کی گئی۔اور ستم یہ کہ پنجاب مسلم لیگ کے بعض ممبرانِ اسمبلی خود جلوسوں کی قیادت کر رہے تھے۔• امارچ کو تحریک ٹھنڈی پڑ گئی۔مارچ کو مظاہرین نے اوکاڑہ میں ٹرین کو روک لیا اور مسافر عورتوں کی عصمت دری کی گئی۔یہ تھی اس تحریک کے چلانے والوں کی اخلاقی حالت۔ٹیلیگرام کے تارکاٹ دیئے گئے تاکہ یہاں سے کہیں پر رابطہ کر ناممکن نہ ہو۔اور احمدیوں کو اغوا کر کے زبردستی ارتداد کرانے کی کوشش کی گئی۔دولتانہ