سلسلہ احمدیہ — Page 388
388 چھوڑنے پر مجبور کر دینا چاہئیے۔اب احراری دفاع پاکستان کے نام پر جلسے کر کے چندے جمع کر رہے تھے اور ان جلسوں میں بھی اصل موضوع جماعت احمدیہ کی مخالفت ہی ہوتا تھا۔(۴۵) تشدد کے اس پر چار کا یہ اثر ہوا کہ سمندری میں جماعت کی ایک چھوٹی سی مسجد پر احراریوں نے حملہ کیا اور وہاں پر موجود احمدیوں کو زدوکوب کرنے کے بعد مسجد کو آگ لگا دی۔(۴۶) ظاہری طور پر پنجاب مسلم لیگ کے اراکین کو اس سے روکنے کے لئے ایک دوسر کلر بھی کئے گئے مگر در پردہ ان کی حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی۔احرار کا جھوٹا پروپیگنڈا: جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ مخالفین سلسلہ کے نزدیک جھوٹ بولنا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔اور نہ ہی اس سے اُن کے ضمیر پر کوئی بوجھ پڑتا تھا۔وہ اپنے جلسوں میں حضرت مسیح موعود کی کتاب کا صفحہ نمبر سمیت حوالہ پڑھتے اور اُس صفحے پر وہ فقرات تو در کنار اس موضوع کا بھی نام ونشان نہ ہوتا۔اور یہی تقریریں اُن کے اخبارات بھی اسی طرح شائع کر دیتے۔یا پھر اس طرح کی تحریف کرتے جیسا کہ ملتان کا نفرنس میں اُن کے ایک مولوی نے بڑے زور سے دعوی کیا کہ مرزا صاحب نے اپنی کتاب نورالحق کے صفحہ ۱۲۱ پر کہا ہے کہ جو شخص میری تحقیر کرے اُس پر ہزار بار لعنت۔جب کہ اس مقام پر حضرت مسیح موعود نے تحریر فرمایا تھا کہ جو دشمنانِ اسلام ان دلائل کا رد نہ لکھ سکیں اور پھر بھی تو ہین قرآن کریم کی عادت کو نہ چھوڑیں اور نہ رسول اللہ ﷺ کی دشنام دہی سے باز آئیں اور نہ اس بیہودگی سے اپنے تئیں روکیں کہ قرآن کریم فصیح نہیں ہے اور نہ تو ہین اور تحقیر کے طریق کو چھوڑیں ان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہزار لعنت ہے۔صاف ظاہر ہے کہ ان دونوں باتوں میں بہت فرق ہے۔نہ معلوم کہ جب اُن لوگوں پر لعنت کی گئی جو رسول کریم ﷺ کے متعلق دشنام دہی سے کام لیتے ہیں تو احراری کیوں سیخ پا ہو گئے۔اسی جلسے میں ایک مقرر نے حوالہ پیش کیا کہ مرزا صاحب نے انوار الاسلام کے صفحہ ۳۳ پر لکھا ہے کہ جو شخص میری صداقت کا قائل نہیں ہے تو اسے صاف سمجھ لینا چاہئیے کہ وہ ولد الحرام ہے۔پھر اس کے بعد حاضرین کو اشتعال دلایا کہ مرزا صاحب نے تمہیں ولد الحرام لکھا ہے۔حالانکہ مذکورہ صفحے پر اس جملے کا نام ونشان تک نہیں۔(۴۷) اب انہوں نے