سلسلہ احمدیہ — Page 377
377 ہی حامی تھے تو ان کی مجلس عاملہ نے یہ قرارداد کیوں منظور کی تھی کہ ہم کسی صورت میں نظریہ پاکستان کو قبول نہیں کر سکتے۔مسلم لیگ کے لیڈروں کو برا بھلا کیوں کہتے رہے۔مسلمانوں کو یہ ترغیب کیوں دلاتے رہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کانگرس میں شامل ہوں۔اور اگر احمدی ہی پاکستان کی راہ میں روڑے اٹکا رہے تھے تو انہوں نے الیکشن میں مسلم لیگ کو ووٹ کیوں دیئے تھے۔احرار کا طریقہ کار یہی تھا کہ اگر ایک جھوٹ کا ثبوت دینے کی ضرورت پیش آئے تو اُس سے بڑا جھوٹ بول دو۔پھر بھی بات نہ بنے تو تیسرا جھوٹ گھڑ لو۔البتہ اُن کے لیڈر عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب نے یہ فیصلہ کرنے کے لئے کہ محب وطن کون ہے اور غدار کون ہے ایک طریقہ بھی تجویز کیا تھا جو یہ تھا میں اپنی حکومت سے اپنے وزراء سے سردار عبدالرب نشتر سے بصد احترام درخواست کرتا ہوں کہ خدا را آپ اس جھگڑے کو ختم کر دیجیے۔آپ مجھے اور مرزا بشیر الدین محمود امیر جماعت احمد یہ دونوں کو بیک وقت گرفتار کر لیجیئے۔دونوں کو اکھٹی ہتھکڑی لگائیے اور اکھٹے ہی سات دن کے لئے حوالات میں رکھئے۔کھانے کو پانی اور نمک کے سوا کچھ نہ دیکھیئے اور پھر آپ سات دن تک تحقیقات کیجئے اور ہم دونوں کو عدالت میں پیش کر دیجئے۔(۳۰) اس معرکة الآراء بیان سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی بیان بازی کے مخاطب زیادہ تر وہی لوگ ہوتے تھے جنہیں علم اور عقل کی تقسیم میں کم حصہ ملا ہوتا ہے۔احراری مولوی بھانڈوں کی طرح ان لوگوں کو ہنسا کر مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔اب وہ اپنے جلسوں میں جماعت کے خلاف ہر قسم کے الزامات لگا کر نفرت کے طوفان اُٹھا رہے تھے۔وہ لوگوں کو اکسا رہے تھے کہ احمدیوں کا بائیکاٹ کریں۔وہ الزام لگا رہے تھے کہ احمدی نا جائز الاٹمنٹیں کرا کے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔احمدیوں نے کشمیر میں خدمات سرانجام دیں تو اُس کے جواب میں احرار نے پروپیگنڈا شروع کیا کہ در اصل احمدی کشمیری مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوا ر ہے ہیں۔اور فرقان فورس در اصل اپنے آپ کو مسلح کرنے کا ایک بہانہ ہے۔ان کا اخبار آزاد خاص طور پر تمام اخلاقی قیود سے آزاد ہو چکا تھا۔اس میں ایسے بیانات دیئے جا رہے تھے جن میں بزرگانِ سلسلہ کو گالیاں دی ہوتی تھیں۔اور احمدی فوجی افسران کی لٹیں شائع کی جاتی تھیں اور اس خدشے کا اظہار کیا جاتا تھا کہ یہ احمدی ایک دن ملک میں فوجی انقلاب لانے کا باعث بنیں گے (۳۰)۔