سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 373 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 373

373 کے مثبت کام سب کو نظر آرہے تھے اور احرار کے دامن میں منفی نعروں کے سوا کچھ نہ تھا۔مولویوں کا نصب العین: سیاسی اقتدار اگر چہ احرار دعوی کرتے تھے کہ وہ مذہبی مقاصد رکھتے ہیں لیکن وہ مذہب کا نام صرف سیاست کی دوکان چمکانے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ان کا عقیدہ تھا کہ سیاسی رسوخ حاصل کرنا ہی اصل مذہبی مقصد ہے۔یہ پوچ نظریہ اُن کے ذہنوں میں بری طرح رچ بس گیا تھا۔۱۹۳۹ء کی آل انڈیا احرار کا نفرنس کے خطبہ صدارت میں افضل حق صاحب نے یہ پالیسی ان الفاظ میں بیان کی۔احرار اس یقین پر قائم ہیں کہ نیکی بغیر قوت کے زندہ نہیں رہ سکتی۔مذہب صرف اس کا زندہ ہے جس کی سیاست زندہ ہے۔اگر چہ بعض تبلیغی اور اصلاحی امور بھی احرار سے متعلق ہیں۔تاہم سیاسی قوت حاصل کرنا ہمارا نصب العین ہے جس کے بغیر ہر اصلاحی تحریک تضیع اوقات ہے۔(۲۲) مگر اب ان کا سیاسی اثر صفر ہو چکا تھا۔ان کا دعوی تھا کہ دس برس میں وہ احمدیت کو ختم کر دیں گے۔مگر جب یہ مدت پوری ہونے کو آئی تو احمدیت تو ترقی کر رہی تھی لیکن خود مجلس احرار کی بقا خطرے میں پڑی ہوئی تھی۔اب اپنی سیاسی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے انہیں کچھ نہ کچھ کرنا تھا۔احرار رنگ بدلتے ہیں: مئی ۱۹۴۸ء میں احرار کی ایک کانفرنس لائل پور میں منعقد ہوئی اُس میں احمدیوں کے خلاف اشارے کئے گئے اور پاکستان سے اظہارِ وفاداری کیا گیا۔کل تک جسے وہ پلیدستان کہہ رہے تھے، آج وہ اسی سے اظہار وفاداری کرنے پر مجبور تھے۔پھر جون میں لاہور میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا اور اس میں پاکستان کی حمایت میں زیادہ وضاحت سے اظہارِ جذبات کیا گیا اور اس کے ساتھ یہ اشارہ بھی کیا گیا کہ احرار مسلم لیگ میں اس لئے شامل نہیں ہو سکتے کیونکہ اس میں چوہدری ظفر اللہ خان اور میاں افتخار الدین جیسے لوگ شامل ہیں جن کے عقائد اسلام کے خلاف ہیں۔گویا کل تک یہی لوگ کہہ رہے تھے کہ مسلم لیگ والے تو انگریز کے اشارے پر ناچتے ہیں اور ان میں