سلسلہ احمدیہ — Page 361
361 بہر حال ایک اور عالمگیر جنگ کے خطرات دنیا کی طرف بڑھتے رہے اور لیگ آف نیشنز بے بس تماشائی بنی رہی اور یہ تنظیم دنیا کو دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاری سے بچانے میں ناکام رہی۔دوسری جنگ عظیم کے آغاز نے اس تنظیم کے وجود کو بے معنی بنادیا تھا۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران ہی ایک نئی عالمی تنظیم کے قیام کی جد و جہد شروع ہوگئی تھی۔اور جرمنی اور جاپان سے نبرد آزما بڑی طاقتیں اپنے زاویہ نگاہ سے ایک نئی عالمی تنظیم کے بارے میں سوچ رہی تھیں اور ایک دوسرے سے مذاکرات کر رہی تھیں۔۱۹۴۵ء میں ۵۰ ممالک امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں ایک کانفرنس میں شریک ہوئے تا کہ اس نئی عالمی تنظیم کا چارٹر تیار کیا جائے۔پہلے امریکہ، روس، برطانیہ اور چین نے اس ضمن میں تجاویز تیار کی تھیں۔اس کانفرنس میں ان تجاویز پر غور وفکر کیا گیا۔۲۶ جون ۱۹۴۵ء کو ان پچاس ممالک نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر دستخط کر دیے اور باقاعدہ طور پر ۲۴ اکتوبر ۱۹۴۵ء کو اقوام متحدہ وجود میں آگئی۔اُس وقت اقوام متحدہ کے قیام سے جو امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں، اس کا اندازہ امریکی صدر ٹرومین کی اُس تقریر کے ابتدائی الفاظ سے ہوتا ہے جو انہوں نے ۲۵ اپریل ۱۹۴۵ء کو یونائیٹڈ نیشن کا نفرنس کے سامنے کی۔انہوں نے اس تقریر کے آغاز میں کہا "The world has experienced a revival of an old faith in the everlasting moral force of justice۔At no time in history has there been a more important conference, nor a more necessory meeting, than this one in San Fransisco, which you are opening today۔" دنیا میں دائمی انصاف کی اخلاقی قوت کا احیاء ہو رہا ہے۔آج ہم سان فرانسسکو میں منعقد ہونے والی جس کا نفرنس کا افتتاح کر رہے ہیں ،اس سے زیادہ اہم کا نفرنس دنیا کی تاریخ میں کبھی منعقد نہیں ہوئی اور نہ ہی اس سے زیادہ ضروری مجلس کبھی منعقد ہوئی ہے۔یہ الفاظ کا ہیر پھیر تھا، ملمع سازی تھی یا انتہائی خوش فہمی۔کچھ بھی تھا لیکن آج کوئی بھی اس میں شک نہیں کر سکتا کہ نئی عالمی تنظیم سے وابستہ یہ امیدیں بہر حال صحیح ثابت نہیں ہوئیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے اقوام متحدہ کی ناکامی کے متعلق اسی وقت اپنے تجزیہ بیان فرما دیا تھا۔