سلسلہ احمدیہ — Page 362
362 ۹ اکتوبر ۱۹۴۶ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے دہلی میں ایک لیکچر دیا جس کا عنوان تھا دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے۔اس میں حضور نے اقوام متحدہ کی کامیابی کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔حضور نے فرمایا د پس سارے جھگڑے پارٹی بازی کی وجہ سے ہیں مختلف حکومتوں کو یہ یقین ہے کہ ان کی قومیں صرف اس خیال سے کہ وہ ان کی حکومتیں ہیں ان کا ساتھ دینے کو تیار ہیں اس لئے وہ بے خوف ہو کر دوسری حکومتوں پر حملہ کر دیتی ہیں۔اس وقت قومی تعصب اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اپنی قوم کا سوال پیدا ہوتا ہے تو سب لوگ بلاغور کرنے کے ایک آواز پر جمع ہو جاتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اگر ہماری حکومت کی غلطی ہے تو ہم اسے سمجھا دیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زیادتی کرنے والی حکومت کو زیادتی سے روکو اور ان حکومتوں کی آپس میں صلح کرا دو اور کوئی نئی شرائط پیش نہ کرو اور نہ ہی تم اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کرو لیکن موجودہ جنگ کا ہی حال دیکھ لو کہ حکومتیں طاقت کے زور پر اپنے حصے مانگ رہی ہیں اور چھوٹی چھوٹی حکومتوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس طریق کو اختیار کرنے سے کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا جیسی آزادی کی ضرورت روس کو ہے یا جیسی آزادی کی ضرورت برطانیہ کو ہے یا جیسی آزادی کی ضرورت امریکہ کو ہے اسی طرح آزادی کی ضرورت چھوٹی حکومتوں کو بھی ہے۔آزادی کے لحاظ سے یونٹ سب کے لئے ایک جیسا ہے۔یہ نہیں کہ ان بڑی حکومتوں کے دماغ تو انسانوں کے دماغ ہیں لیکن چھوٹی حکومتوں کے دماغ جانوروں کے دماغ ہیں۔جیسے وہ انسان ہیں ویسے ہی یہ انسان ہیں اور آزادی کا جیسا احساس ان بڑی حکومتوں کو ہے ویسا ہی ان چھوٹی حکومتوں کو ہے۔کیا ہالینڈ کا ایک آدمی ویسے ہی احساسات نہیں رکھتا جیسے احساسات برطانیہ کا آدمی رکھتا ہے۔جب احساسات ایک جیسے ہیں تو تو پھر بڑی حکومت کا چھوٹی حکومت پر دباؤ ڈالنا انصاف پرمبنی نہیں ہوسکتا۔اگر ایک شخص چارفٹ کا ہو اور دوسرا شخص سات فٹ کا ہو اور سات فٹ کا آدمی چارفٹ والے کو کہے کہ میرا حق ہے کہ میں تمہیں گالیاں دے لوں یا تمہارے منہ تھپڑ مارلوں کیونکہ میں سات فٹ کا ہوں اور تم چارفٹ کے ہو تو کیا کوئی حکومت اسے