سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 351 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 351

351 طرف سے کشمیر پر اپنا موقف پیش کیا جاتا ہے تو یہ قرارداد اس مؤقف کی بنیاد ہوتی ہے۔باوجود تمام ترامیم کے اس کا منظور ہو جانا ہندوستان کے لئے ایک ناکامی تھی۔وہ مدعی بن کر گئے تھے لیکن ان کو مدعا علیہ بن کر باہر آنا پڑا۔آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار ابراہیم وہاں پر موجود تھے وہ لکھتے ہیں کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں ناکامی کے بعد بھارتی مندوب سر گوپال سوامی آئینگر اور شیخ عبداللہ کے درمیان آپس میں تلخ کلامی بھی ہوتی رہی۔کیونکہ شیخ عبد اللہ صاحب سر آئینگر پر الزام لگاتے تھے کہ وہ پاکستانی مندوب اور وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔لیکن یہ ایک المیہ ہے کہ اب اقوام متحدہ میں صحیح فورم پر کیس پیش کرنے کی بجائے پس پردہ سیاسی چالوں کا دور شروع ہو رہا تھا۔آہستہ آہستہ سلامتی کونسل میں ہونے والی تقریریں مختصر اور پھپھی ہونے لگیں اور اس نے کٹھ پتلی کے تماشے کی شکل اختیار کر لی۔برطانوی وزیر نوئیل بیکر کو کامن ویلتھ کی وزارت سے علیحدہ کر کے ایندھن کا وزیر بنا دیا گیا اور پھر انہیں کا بینہ سے باہر نکلنا پڑا۔البتہ انہیں امن کے نوبل پرائز سے ضرور نوازا گیا جوان کی کاوشوں کے شایانِ شان تھا۔سلامتی کونسل میں اس معرکے سے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی قابلیتیں عالمی منظر پر نمایاں ہو کر سامنے آئیں جس کا سب نے اعتراف کیا۔چنانچہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم چوہدری محمد علی صاحب جو اس وفد میں شامل تھے لکھتے ہیں "Zafarullah Khan's masterly exposition of the case convinced the security council that the problem was not simply one of expelling so called raiders from Kashmir"۔ظفر اللہ خان نے اس ماہرانہ انداز میں واقعات پیش کئے کہ سلامتی کونسل کو یقین ہو گیا کہ یہ معاملہ فقط کشمیر سے نام نہاد حملہ آوروں کو باہر نکالنے کا نہیں ہے۔(۳۴) آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار ابراہیم جو اس موقع پر موجود تھے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں پاکستان کے وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں جو بھارت کی شکایت پر بلایا گیا تھا۔بھارت کے ایک ایک الزام کو غلط اور بے بنیاد ثابت کر دیا۔(۳۵)