سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 352 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 352

352 چوہدری صاحب نے اس بحث میں دوسرے فریق کے بیانات کو اس مہارت سے استعمال کیا کہ اس کا اعتراف ان کے مصنفین بھی کرتے ہیں چنانچہ بال راج مدھک سلامتی کونسل میں ہونے والی بحث کے متعلق لکھتے ہیں انہوں نے (یعنی شیخ عبد اللہ نے ) مختلف مواقع پر جو بیانات دیئے تھے اور جو تقریریں کی تھیں اور اسی طرح پنڈت نہرو کی تقریروں نے ظفر اللہ کے ہاتھ میں ایسی چھڑی پکڑا دی تھی جس سے وہ ہندوستان کی پٹائی کرتے رہے۔(Kashmir Storm center of the world, chapter8, by Bal Raj Madhok) شیخ عبداللہ صاحب ہندوستان کے وفد میں شامل تھے اور انہوں نے اپنے مؤقف کو صحیح ثابت کرنے کے لئے اپنی کتاب میں بہت کچھ لکھا ہے۔لیکن چوہدری صاحب کے کامیاب انداز کے متعلق وہ لکھتے ہیں۔پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ چودھری سرظفر اللہ خان کر رہے تھے۔مجھے بھی ہندوستان کے وفد میں شامل کیا گیا۔۔۔سر ظفر اللہ ایک ہوشیار بیرسٹر تھے۔انھوں نے بڑی ذہانت اور چالاکی کا مظاہرہ کر کے ہماری محدودسی شکایت کو ایک وسیع مسئلے کا روپ دے دیا اور ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے سارے پر آشوب پس منظر کو اس کے ساتھ جوڑ دیا۔ہندوستان پر لازم تھا کہ وہ اپنی شکایت کا دائرہ کشمیر تک محدود رکھتا۔لیکن وہ سرظفر اللہ کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس کر رہ گیا اور اس طرح یہ معاملہ طول پکڑ گیا۔بحثا بحثی کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ ختم ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔ہمارے کان پک گئے اور قافیہ تنگ ہونے لگا۔ہم چلے تو تھے مستغیث بن کر لیکن ایک ملزم کی حیثیت سے کٹہرے میں کھڑے کر دیئے گئے۔(۳۶) فرقان بٹالین : اقوام متحدہ کی طرف سے اس مسئلہ کے حل کرنے کے لئے ایک کمیشن قائم کر دیا گیا۔لیکن ابھی کشمیر میں جنگ جاری تھی۔سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد پاکستانی فوج بھی کشمیر میں داخل