سلسلہ احمدیہ — Page 345
345 ہوں۔کل انہوں نے مجھے قائل کرنے کی بہت کوشش کی ہے کہ میں ان کی دیانت کے متعلق اپنی رائے بدل لوں۔لیکن میرے خیال میں یہ ایک استثنائی صورت تھی۔انہوں نے میرے متعلق بہت سخت الفاظ استعمال کرنا پسند کیا ہے لیکن میں ان کے متعلق اپنی پرانی رائے پر قائم ہوں۔اور اس کے بعد چوہدری صاحب نے ان کے دلائل کا موثر رد پیش کیا۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے کہا کہ بھارتی مندوب نے کلکتہ کی قتل و غارت کی تمام ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالی ہے اور کہا ہے کہ ان فسادات کی عدالتی تحقیق ہو رہی تھی اور اب وہ تحقیق ۱۵ اگست کے بعد روک دی گئی ہے لیکن بھارتی مندوب نے یہ نہیں بتایا کہ جس صوبہ میں یہ عدالتی تحقیق روکی گئی ہے وہاں پر خود کانگرس کی حکومت ہے۔اور کلکتہ کے بعد نواکھلی میں فسادات کا افسوسناک اور قبل مذمت واقع ہوا اور وہاں کے گورنر Mr۔Burrows کا اندازہ ہے کہ اس میں ۲۰۰ ہندو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اس کے بعد بہار کے فسادات میں ۳۰ ہزار مسلمانوں کو موت کی گھاٹ اتار دیا گیا۔اور اس واقعہ میں پورے کے پورے دیہات کو نذر آتش کر دیئے گئے۔چوہدری صاحب نے دیگر واقعات بیان کر کے فرمایا کہ بھارتی مندوب نے کپورتھلہ کے متعلق ایک لفظ نہیں کہا ، جہاں پر مسلمانوں کی آبادی اب صفر رہ گئی ہے۔چوہدری صاحب نے پنجاب کے بعض سکھ لیڈروں کی تقاریر کا حوالہ دیا جن میں انہوں نے کہا تھا کہ سکھ اور ہندومسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلیں گے اور ایسے بیانات کے بعد پنجاب میں فسادات شروع ہوئے۔پھر آپ نے کراچی اور دہلی کے حالات کا موازنہ بیان کیا اور کراچی کے غیر مسلموں کے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے صوبہ سندھ کے حکام کی تعریف کی تھی کہ انہوں نے بہت مستعدی سے فسادت پر قابو پایا اور دہلی میں اگر چہ گاندھی جی نے موت تک بھو کے رہنے کا اعلان کیا مگر پھر بھی حالات قابو میں نہ آئے۔اس کے بعد آپ نے کشمیر میں رونما ہونے والے حالات بیان کیے کہ کس طرح وہاں پر مہاراجہ کی فوج نے مسلمانوں کا قتلِ عام شروع کر دیا تھا اور اس کے بعد کس طرح مسلمانوں کا جائز رد عمل ظاہر ہوا۔تقریر کے اختتام پر آپ نے یقین دلایا کہ پاکستان اس مسئلہ کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا۔اب سلامتی کونسل میں دونوں طرف سے کافی دلائل کا تبادلہ ہو چکا تھا اور پچھلے چند ماہ میں