سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 346 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 346

346 برصغیر میں جو افسوسناک فسادات ہوتے رہے تھے ان کے متعلق بھی فریقین کا نقطہ نظر سلامتی کونسل کے سامنے آچکا تھا۔کشمیر کے بارے میں بھی طویل تقاریر ہوگئی تھیں۔اب سلامتی کونسل کو کوئی راستہ نکالنا تھا کہ جنگ کی بجائے مفاہمت کے ذریعہ اس مسئلہ کا حل نکالا جائے۔سب سے پہلے برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا کے مندوبین نے اپنی مختصر تقاریر میں اس بات پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کے صدر دونوں ممالک کے نمائندوں کے ساتھ مل کر اس مسئلہ کا حل نکالیں۔اس کے بعد فرانس کے مندوب نے اپنی تقریر کے آخر میں تین تجاویز پیش کیں۔پہلی یہ کہ کشمیر سے تمام باہر سے آئی ہوئی افواج نکل جائیں۔کشمیر کے وہ رہنے والے خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان جو فسادات کی وجہ سے وہاں سے نکلنے پر مجبور ہوئے تھے ، انہیں واپس اپنے گھروں میں آباد کیا جائے۔اور ایک آزاد انتظامیہ قائم کی جائے جو کشمیر کے لوگوں پر کوئی دباؤ ڈالے بغیر وہاں پر آزادانہ رائے شماری کرائے۔شام کے سفیر نے بھی اس بات کی حمایت کی کہ وہاں سے تمام افواج اور آئے ہوئے قبائلی بھی نکل جائیں اور پھر کشمیر کے عوام آزادی سے اپنا حق خود ارادیت استعمال کریں۔یہ صورتِ حال ہندوستان کی امیدوں کے خلاف تھی۔ان کا مطالبہ تھا کہ کشمیر کا ہندوستان سے الحاق ہو چکا ہے اور پاکستان نے کشمیر پر حملہ کیا ہے۔پاکستان اپنے بھجوائے ہوئے قبائلی واپس بلائے اور پھر ہندوستان کی حکومت خود وہاں پر رائے شماری کرائے گی۔لیکن اب سلامتی کونسل کا یہ رحجان نظر آ رہا تھا کہ یہ فیصلہ کیا جائے کہ نہ صرف قبائلی وہاں سے نکلے بلکہ ہندوستان بھی اپنی بھجوائی ہوئی افواج واپس بلائے اور ایک آزاد انتظامیہ وہاں پر رائے شماری کرائے۔۲۸ جنوری کو جب سلامتی کونسل کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو پاکستان اور ہندوستان کا موقف زیادہ واضح طور پر سامنے آیا۔ہندوستان کا اصرار تھا کہ شیخ عبد اللہ کے تحت ایک حکومت کشمیر میں کام کرے اور پاکستان قبائلیوں کو واپس بلائے۔پہلے کشمیر میں لڑائی کو روکا جائے۔پھر اقوام متحدہ کے تحت رائے شماری کرائی جائے لیکن سب سے پہلی ترجیح یہ ہے کہ لڑائی کو روکا جائے رائے شماری کا معاملہ بعد میں دیکھا جائے گا۔بھارتی مندوب آئینگر کا گلا بیٹھ چکا تھا۔پاکستان کا موقف تھا کہ سلامتی کونسل کا مقرر کردہ کمیشن ایک غیر جانبدار حکومت قائم کرے اور پھر رائے شماری کرائی جائے۔اور سلامتی کونسل رائے شماری کا معاملہ ابھی طے کرے تا کہ یہ اطمینان ہو کہ کشمیر کے لوگوں کو