سلسلہ احمدیہ — Page 240
240 رکھی جائے مگر فیصلہ کیا جائے کہ باقی مکانات کس ترتیب سے بنائے جائیں۔جولوگ زمین خریدنا چاہیں ان کو ایک ماہ تک پچاس روپیہ کنال کے حساب سے زمین ملے گی مگر قبضہ مکان بناتے ہوئے دیا جائے گا۔ایک ماہ کے بعد نئی قیمت کا اعلان کیا جائے گا۔قادیان کے احمدی باشندوں کو اور قادیان کے ان غیر احمدی باشندوں کو جو ہماری مخالفت نہ کرتے ہوں دس مرلہ زمین مفت دی جاے گی۔مگر چھ ماہ کے اندر مکان کی تعمیر شروع کرنی ہوگی۔زمین کی دو تہائی قیمت انجمن اور ایک تہائی قیمت تحریک ادا کرے گی۔اس نسبت سے دونوں انجمنیں علاقے کی مالک ہوں گی۔میاں عبدالرشید صاحب نے مرکز کا نقشہ تیار کر چکے تھے، حضرت مصلح موعودؓ نے ارشاد فرمایا کہ اس پر تفصیلی غور کے لئے اس کو بڑے سکیل پر تیار کرایا جائے۔ان خطوط پر سرعت سے بنیادی کام کا آغاز کیا گیا۔حسب ارشاد نئے مرکز کے قیام کے لئے کمیٹی بنائی گئی۔ابتدائی دنوں میں اس کے ممبر تبدیل ہوتے رہے اور ستمبر اکتوبر ۱۹۴۷ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی صدارت میں کمیٹی اپنے فرائض ادا کر رہی تھی اور مکرم شیخ خورشید احمد صاحب اس کے سیکریٹری تھے۔(۱۴) حکومت کی طرف سے اس زمین کا با ضابطہ قبضہ دینے میں تاخیر کی گئی لیکن کافی دوڑ دھوپ کے بعد بالآخر ۸ اگست ۱۹۴۸ء کو صدر انجمن احمدیہ کو قبضہ دے دیا گیا۔جماعت کی طرف سے قبضہ لیتے ہی تیرہ افراد کا وفد چک ڈھگیاں روانہ کر دیا گیا۔اس وفد میں عبدالرزاق خان صاحب اور ایک استاد مولوی ابوالفاروق ممتاز علی بنگالی صاحب بھی شامل تھے۔دریائے چناب کے کنارے کچھ فوجی ایک بنگلے میں رہ رہے تھے اور قریب ایک طیارہ شکن توپ نصب تھی۔ایک اور بنگلہ تقسیم ملک کے بعد خالی پڑا تھا۔اس گروپ کو یہیں پر سر چھپانے کی جگہ مل گئی۔کسمپرسی کا یہ عالم تھا کہ سونے کے لئے بستر تو در کنار چار پائی تک میسر نہیں تھی۔فرش پر چادر بچھا کر سو جاتے اور تکیے کی جگہ پتھر رکھ لیتے۔پینے کے لئے دریا کا پانی ہی مل سکتا تھا جسے پھٹکڑی ڈال کر صاف کر لیا جاتا۔تنگدستی کی وجہ سے صابن نہ مل سکتا تو کلر سے ہی کپڑے دھو لیے جاتے۔غلہ خرید کر احمد نگر میں جمع کرنا شروع کیا گیا۔اس خطہ بے آب و گیاہ میں سانپوں اور بھیڑیوں سے خطرہ بھی تھا چنانچہ ایک ماہ کے اندر ہی پہلے وفد کے رکن عبد الرزاق خان صاحب کو زہریلے سانپ نے کاٹ لیا۔حالت بگڑی تو انہیں لا ہور کے ایک ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔(۱۵)