سلسلہ احمدیہ — Page 216
216 Quakers کی طرح عدم تشدد کا قائل ہے۔ان کی مسجد کے ارد گرد کا علاقہ ان سے بھرا ہوا ہے۔اور انہوں نے اس بات کا تہیہ کیا ہوا ہے کہ یہ لوگ بغیر جنگ کئے مر جائیں گے مگر اپنے نبی کے مزار کو نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے سکھوں کے محاصرے کے امکان کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا اور ایک سال کے لئے خواراک کا ذخیرہ کرلیا تھا۔۔۔۔جب میں اُس طرف سڑک پر گاڑی میں جا رہا تھا تو لاشوں کی بد بو میری ناک میں بسی ہوئی تھی۔ایک ہفتے سے اس قصبے پر سکھ حملہ کر رہے ہیں۔اور اردگر دصرف سکھ ہی آزادانہ طور پر گھومتے نظر آتے ہیں۔اس شہر کی ۸۸ فیصد آبادی مسلمان تھی مگر اب سکھوں نے زیادہ تر گھروں پر قبضہ کر لیا ہے۔" (۴۱) ان حالات میں جب کہ فوج اور پولیس نے بلوائیوں کے ساتھ مل کر قادیان میں مظالم کی انتہا کر دی تھی۔خود وزیر اعظم ہندوستان کے نمائیندہ نے بھی حالات ملاحظہ کر لئے تھے اور پوری دنیا کو اس کی خبر ہو چکی تھی۔بہت سے احمدیوں نے جب ۱۲۴ کتوبر کا اخبار دیکھا تو یہ خبر پڑھ کر حیران رہ گئے قادیان کے مسلمانوں کی حفاظت پنڈت نہرو کا برقیہ معلوم ہوا ہے کہ پنڈت نہرو نے وزیر اعظم پاکستان کو ایک تار کے ذریعہ مطلع کیا ہے کہ یہ خبر بالکل غلط ہے کہ قادیان کے مسلمانوں کو گرفتار کر کے ان پر ظلم وستم کیا جارہا ہے۔پنڈت نہرو نے لکھا ہے کہ قادیان کے احمدیوں کی پوری حفاظت کی جارہی ہے۔اور اس کے لئے ایک مجسٹریٹ مقرر کر دیا گیا ہے۔(۴۲) اس پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں ہے۔