سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 208 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 208

208 ڈالنا مناسب نہیں۔۔۔۔یہ محض خام خیالی ہے کہ وہاں بہت دیر تک مقابلے میں جسے رہنے سے اس بات کو اس قدر شہرت ملے گی۔کہ ہندوستان کی حکومت مرعوب ہو کر قادیان کو تباہ کرنے سے اپنا ہاتھ کھینچ لے گی۔“ اب دشمن اس بات کی تیاری کر رہا تھا کہ ایک آخری حملہ کر کے قادیان کو مکمل طور پر خالی کرالیا جائے اور مقدس مقامات کو تہس نہیں کر دیا جائے۔کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے ایک اور قدم یہ اٹھایا گیا کہ بجلی کی رو بند کر دی گئی۔پولیس نے حکماً آٹا پینے والی برقی چکیاں بند کر دیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ محصورین کو گندم ابال کر کھانی پڑی اور ان میں پیچش کے امراض پھیل گئے۔اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ پولیس نے حکم دیا کہ کسی کے گھر میں دو بوری سے زیادہ گندم نہیں ہونی چاہئیے۔بقیہ غلہ پولیس نے ضبط کر لیا۔یہ سب مظالم احمدیوں کی قوت مدافعت توڑنے کے لئے کئے جارہے تھے۔۲ اکتوبر کو فوج نے زبر دستی احمدیوں اور دیگر پناہ گزینوں کو تعلیم الاسلام کالج سے بے دخل کر دیا۔حالانکہ اس کی مالک صدرانجمن احمد یہ قادیان میں قائم تھی۔۲ اکتوبر کو حضور نے بتیس لاریوں کا ایک قافلہ قادیان کے لئے روانہ فرمایا۔اس میں کچھ خدام قادیان کی حفاظت کے لئے جا رہے تھے اور یہ لاریاں قادیان کے پناہ گزینوں کو لانے کے لئے بھجوائی جا رہی تھیں۔حضور نے انہیں رخصت کرتے وقت فرمایا کہ مجھے محسوس ہورہا ہے کہ اس قافلے کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آنے والا ہے۔جب قافلہ بٹالہ سے آگے نکلنے لگا تو فوج نے یہ بہانہ کر کے اسے روک دیا کہ آگے بارش کی وجہ سے راستہ خراب ہے۔یہ صرف بہانہ تھا ، حقیقت یہ تھی کہ اب قادیان پر ایک بڑا حملہ کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا تھا۔بعد میں اس کنوائے پر حملہ بھی ہو ا۔۲ اکتوبر کو سکھوں نے دارالراحت محلہ پر حملہ کیا مگر انہیں واپس جانا پڑا۔قادیان پر بڑا حملہ: ۲ اور ۳ اکتوبر کی درمیانی رات کو دار اسی میں موجود لوگوں نے مشرق کی طرف سے گولیاں چلنے کی آواز میں سنیں۔اس کے ساتھ نعروں کی آوازیں بھی بلند ہوئیں۔جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ مشرق میں قادیان سے متصل موضع بھینی پر سکھوں کا حملہ ہو گیا ہے۔آدھی رات کو مسجد اقصیٰ میں ایک نہایت