سلسلہ احمدیہ — Page 188
188 وہاں جائے گا۔قادیان سے دفاتر کے کارکنوں کا ایک بڑا حصہ وہاں سے نکلوانا ضروری ہے کیونکہ انہوں نے گزشتہ تین ماہ میں دن رات کام کیا ہے۔اور علماء اور اکابر سلسلہ جو کئی دہائیوں کی مساعی کا نتیجہ ہیں اگر ان کو ضائع ہونے دیا گیا تو سلسلہ کی ترقی ایک لمبا عرصہ پیچھے جا پڑے گی۔اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ جن کے سپر داہم جماعتی کام ہیں انہیں قادیان سے باہر نکال لیا جائے۔قادیان کے رہنے والوں کے متعلق فیصلہ ہوا کہ ان میں سے جن کی عمر ۱۸ اور ۵۵ سال کے درمیان ہے اُن کا تیسرا حصہ قادیان میں ٹہرے گا۔حضور کی خدمت میں مشورہ پیش کیا گیا کہ خاندان حضرت مسیح موعودؓ کے افراد کو قادیان سے باہر نکال لیا جائے لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے ارشاد فرمایا کہ ان میں سے بھی ایک مقررہ حصہ قادیان میں رہنا چاہئیے۔یہ سوال بھی زیر غور آیا کہ پاکستان میں نیا مرکز کہاں قائم کیا جائے ، حضور نے ارشاد فرمایا کہ اس غرض کے لئے ضلع شیخو پورہ میں کسی مناسب جگہ کا انتخاب کیا جائے۔فیصلہ ہوا کہ نئے مرکز کے لئے جماعتیں پانچ لاکھ روپے کا چندہ جمع کریں۔(۳) لاہور کی جماعت کو نصیحت : جب جماعت ابتلاء کے دور سے گذر رہی ہو تو یہ وقت تقاضہ کرتا ہے کہ سب احمدی دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے خدمت پر کمر بستہ ہو جائیں۔خاص طور پر جو مقام اس وقت جماعتی سرگرمیوں کا مرکز ہو یا جہاں پر خلیفہ وقت موجود ہو وہاں کے احمدیوں کی ذمہ داریاں پہلے سے بہت بڑھ جاتی ہیں۔ایسے مواقع پر کسی قسم کی کوتاہی کے خوفناک نتائج نکل سکتے ہیں۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے محسوس فرمایا کہ لاہور کی جماعت کے بہت سے احباب وہ نمونہ نہیں دکھا رہے جس کا تقاضا یہ نازک حالات کر رہے تھے تو آپ نے اس امر کی اصلاح کے لئے ایک خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ قادیان کے احمدی تو جان ہتھیلی پر رکھ کر شعائر اللہ کی حفاظت کر رہے ہیں اور ان کو بائیس بائیس گھنٹے بھی کام کرنا پڑتا ہے۔اور جو پندرہ ہمیں آدمی قادیان سے آئے ہیں انہیں دفتری کاموں سے کوئی فرصت نہیں کیونکہ بیس ہیں آدمیوں کی جگہ ایک آدمی کو کام کرنا پڑ رہا ہے۔حضور نے اس بات پر اظہار ناراضگی فرمایا کہ جب کہ خلیفہ وقت یہاں پر موجود تھا لا ہور کے اکثر احباب دن میں ایک نماز