سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 8 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 8

جوانجمن حمایت اسلام کی طرف سے برپا کیا جارہا تھا۔مولوی لال حسین اختر صاحب نے نیروبی میں جماعت کے خلاف اشتعال انگیز تقریروں کا سلسلہ شروع کیا ہوا تھا۔۱۹۳۵ء کے شروع میں سر علی مسلم کلب کے میدان میں مولانا شیخ مبارک احمد صاحب اور لال حسین اختر صاحب کے درمیان مناظرہ ہوا۔غیر احمدیوں کے مناظر کی علمی سطح اسی سے ظاہر ہوتی ہے کہ مناظرہ سے قبل جب شرائط طے ہو رہی تھیں تو مولوی لال حسین اختر صاحب نے یہ شرط پیش کی کہ مناظرہ میں ہر پیش کردہ اقتباس کا حوالہ دینا ضروری نہیں ہونا چاہیے (۲۳) مسلم اور غیر مسلم احباب کی ایک بڑی تعدا داس کو سننے آئی ہوئی تھی۔نقض امن کے اندیشے کے پیش نظر پولیس کے اہلکار، افسران اور گھوڑ سوار پولیس ارد گرد چکر لگا رہی تھی۔مناظرہ حیات و وفات مسیح کی بحث سے شروع ہوا۔غیر احمدی مناظر کی افتاد طبع کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حیات مسیح کی پہلی دلیل انہوں نے یہ دی کہ چونکہ محمدی بیگم سے نکاح نہیں ہوا لہذا ثابت ہوا کہ آنے والا آسمان پر زندہ موجود ہے۔وفات مسیح کے بعد اجرائے نبوت اور صداقت حضرت مسیح موعود کے موضوعات پر مناظرہ ہوا۔اس دوران لال حسین اختر صاحب نے اعجاز اسی میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر پر اعتراض کرنے کی جسارت کی تو احمدی مناظر نے حضرت مسیح موعود کے خادم ہونے کے ناطے چیلنج دیا کہ وہ اپنی مرضی کا رکوع چن لیں اور موجود تمام غیر احمدی علماء اس کی تفسیر لکھیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر احمدی مناظر بھی اسی رکوع کی تفسیر لکھے اور دنیا دیکھ لے کہ خدا تعالیٰ کی نصرت کس کے ساتھ ہوتی ہے مگر لال حسین اختر صاحب نے اس کا یہ نامعقول جواب دیا، "تم کیا ہستی رکھتے ہو لاؤ میرے مقابل پر مرزا صاحب کو (۲۴)۔دوران مناظرہ وہ کوئی بھی معقول دلائل پیش نہیں کر سکے۔محض ادھر ادھر کی باتیں کر کے کج بحثی کرتے رہے جبکہ احمدی مناظر نے قرآن اور حدیث سے اپنے دلائل پیش کئے۔حاضرین پر کھل گیا کہ لال حسین اختر صاحب کا دامن دلائل سے خالی ہے۔اس مناظرے میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی دور دور سے آکر شریک ہوئے اور جماعت کی غیر معمولی کامیابی کو مشاہدہ کیا۔(۲۵) اس کے بعد دوسرے مقامات پر بھی مناظرے ہوئے۔جب مخالفین نے محسوس کیا کہ احمدیت کی فتح ظاہر ہوتی جا رہی تو مار پیٹ کا راستہ اپنایا۔Nyeri کے مقام پر جب احمدی مناظرے کے لئے پہنچے تو مخالفین نے احمدیوں پر حملہ کر دیا۔جس کے نتیجے میں شیخ صاحب اور دوسرے احمدی زخمی ہو گئے۔