سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 155 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 155

155۔نہیں اُٹھانی چاہئیے۔لوگوں کا یہ خیال کہ صلح نہیں ہو سکتی غلط ہے۔۔۔۔میں نے جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے تعلق رکھنے والے امور پر غور کیا ہے میرا خیال یہی ہے کہ اگر مسلمانوں کے حقوق محفوظ ہو جائیں۔تو ہم سب کو مل کر رہنے میں ہی فائدہ ہے۔پھر حضور نے ارشاد فرمایا کہ ہمیں ہندوستان کو اسلام کی تبلیغ کے لئے Base بنانا چاہئیے اور جس طرح صبح کے وقت شمع کے گرد پروانوں کا ڈھیر ہوتا ہے اسی طرح ہمیں بھی شمع اسلام کے گرد قربان ہونا پڑے گا۔آپ نے فرمایا: بعض احمدی مجھے لکھتے رہتے ہیں کہ غیر احمدیوں نے ہم پر یہ یہ ظلم کئے ہیں۔مگر میں ہمیشہ ان کو یہی جواب دیتا ہوں کہ اس میں شک نہیں ہمیں غیر احمدی مسلمانوں کی طرف سے وقتاً فوقتاً تکالیف پہنچتی ہیں۔مگر یہ تو بتاؤ کہ ہماری جماعت کے اندر ہندوؤں میں سے زیادہ لوگ آئے ہیں یا مسلمانوں میں سے؟ وہ ظلم بھی کرتے ہیں مگر آتے بھی تو وہی ہیں۔۔۔یہ سب حالات بتاتے ہیں کہ ہمارے اور ان کے درمیان ایک قدرتی اتحاد ہے۔اور ہم جسم کے ٹکڑوں کی طرح ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔(۳۵) مئی ۱۹۴۷ء کے آغاز میں جماعت احمدیہ کی طرف سے قائد اعظم محمد علی جناح کو ان تجاویز پر مشتمل تار دی گئی۔اول تو جماعت احمدیہ تقسیم پنجاب کے خلاف ہے لیکن اگر یہ تقسیم ناگزیر ہو تو اسے ان شرائط سے مشروط کرنا ضروری ہے۔تمام ان علاقوں کو پاکستان میں شامل کیا جائے جہاں پر مسلمان اکثریت میں ہوں۔جن علاقوں میں کسی ایک گروہ کی واضح اکثریت نہیں وہاں پر مسلمان، ہندوؤں اور سکھوں کی رائے تو معلوم ہو چکی ہے، البتہ اچھوت اقوام اور عیسائیوں کی رائے ریفرنڈم کے ذریعہ معلوم کی جائے۔نہروں کے ہیڈ ،بجلی کے پاورسٹیشنوں اور پہاڑی مقامات کو پندرہ برس کے لئے اُن مقامات سے وابستہ رکھا جائے جن کو وہ اس وقت فائدہ پہنچا رہے ہیں۔(۳۶) ابھی سیاسی افق پر تو مہم مناظر آرہے تھے لیکن حضرت خلیفتہ اسیح الثانی جماعت احمدیہ کو ہرممکن حالات کے لئے تیار فرما رہے تھے۔پنجاب مسلم لیگ نے تو آخر تک پیش آمدہ مسائل سے نمٹنے کی تیاری نہیں کی تھی مگر مئی کے آغاز میں ہی جماعت نے متعلقہ اعداد و شمار جمع کرنے شروع کر دیئے تھے۔(۳۷) اور جماعت کی طرف سے سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے نام اپیلیں شائع ہو رہی