سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 91 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 91

91 ایسے خیال رکھنے والوں کو میں اسلام کا بدترین دشمن خیال کرتا ہوں۔اور احمق سمجھتا ہوں۔گو وہ کتنے بڑے بڑے جسے اور پگڑیوں والے کیوں نہ ہوں۔اور جب میرا دوسری تفسیروں کے متعلق یہ خیال ہے تو میں اپنی تفسیر کے متعلق یہ کیونکر کہہ سکتا ہوں۔۔۔۔قرآن کریم کے نئے نئے معارف ہمیشہ کھلتے رہیں گے۔آج سے سو سال کے بعد جو لوگ آئیں گے وہ ایسے معارف بیان کر سکتے ہیں جو آج ہمارے ذہن میں بھی نہیں آسکتے۔“ اس خطبے کے چند روز بعد تفسیر کبیر کی شائع ہونے والی پہلی جلد لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ گئی۔یہ جلد سورۃ یونس سے لے کر سورۃ کہف تک کی تفسیر پر مشتمل تھی۔اس کے بعد وقفوں سے ایک کے بعد دوسری جلد منظر عام پر آتی رہی۔گو پورے قرآنِ مجید کی تفسیر مکمل نہیں ہو سکی مگر تیار ہونے والی یہ دس جلدیں پڑھنے والوں کے لئے ایک عظیم خزانہ ہیں۔تفاسیر کی دنیا میں اس کا ایک منفرد مقام ہے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ کی خاص تائید کے تحت تحریر کیا گیا تھا۔حضور کی تفسیر کا یہ بنیادی اصول تھا کہ قرآن کریم کا ایک حصہ دوسرے حصوں کی تشریح کرتا ہے۔جب ایک آیت کو سمجھنا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس مضمون کی دوسری آیات پر غور کیا جائے۔اس طریق پر صحیح مطلب واضح ہو کر سامنے آجاتا ہے۔اس کے بعد ارشادات نبوی ﷺ پر غور و فکر آیات کے مطالب کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔پھر حکم و عدل حضرت مسیح موعود کے ارشادات کی روشنی میں آیات کو دیکھنے سے قرآنی معارف کا ایک خزانہ حاصل ہوتا ہے۔بہت سی تفاسیر میں بائیبل اور ضعیف روایات کے زیر اثر انبیاء کے متعلق ایسی باتیں داخل ہوگئی تھیں جو ان مقدس وجودوں کے بلند مقام کے منافی تھیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے تاریخی تجزیے اور عقلی دلائل سے ان کو غلط ثابت فرمایا۔سائنس کی ترقی کے ساتھ ایسے بہت سے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے قرآنی آیات کی صداقت روزِ روشن کی طرح ثابت ہوتی ہے۔حضور نے تفسیر کبیر میں ان معارف کو بیان فرمایا۔ان کا مطالعہ سائنسی ذوق رکھنے والوں کو صداقتِ قرآن پر ایک تازہ ایمان بخشتا ہے۔اسی طرح جب وقت کے ساتھ آثار قدیمہ کے علم نے ترقی کی تو ان بستیوں کے آثار بھی دریافت ہونے لگے جن کا ذکر قرآنِ مجید میں موجود ہے۔حضور نے اس علم کی روشنی میں متعلقہ