سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 90 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 90

00 90 تک پہنچ جائے گی اور تفسیر قرآن اور قرآنی معارف کے متعلق ایک پر معرفت خطبہ ارشاد فرمایا۔ایک عارف باللہ اللہ تعالی کی سب سے زیادہ خشیت رکھتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعَلَمو ا (۸) یعنی یقینا اللہ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔حضور نے اس خطبے کا آغاز اسی مضمون سے کرتے ہوئے فرمایا تفسیر کا کام بہت بڑی ذمہ واری ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اگر اس میں دیر ہوئی ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ فطرتاً میں اس سے بہت گھبرا تا ہوں۔اور مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی ٹڑا ہمالیہ پہاڑ کو اٹھانے کی کوشش کرے۔اور میں نے مجبوراً اور جماعت کے اندر اس کی شدید خواہش کو دیکھتے ہوئے اس میں ہاتھ ڈالنے کی جرات کی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ اس کے لئے مجبور ہوا ہوں ورنہ قرآن کریم کی تفسیر ایسا کام نہیں جسے مومن دلیری سے اختیار کر سکے۔(۹) بدقسمتی سے مسلمانوں نے قرآن مجید پر تدبر کو ترک کر دیا ورنہ قرآن مبین ہر شخص کو دعوت فکر دیتا ہے اور ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق اس سے معارف حاصل کر سکتا ہے۔تمام جماعت کو کتاب اللہ پر تدبر کی نصیحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا ”ہر انسان خود قرآن کو پڑھے سوچے سمجھے تو صحیح علم حاصل کر سکتا ہے باقی تفاسیر تو ایسی ہی ہیں جیسی کسی جگہ پر پہنچنے کے لئے سواری پر چڑھ جاتا ہے۔۔۔۔فائدہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ مومن ان ذرائع کو تقریب سے زیادہ اہمیت نہ دے بلکہ خود آگے بڑھے اور سوچے سمجھے۔“ حضرت مسیح موعود کی آمد سے قبل مسلمانوں سے ایک بڑی غلطی یہ ہوئی تھی کہ انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ قرآن کریم میں جتنے معارف تھے وہ اس وقت تک کی لکھی ہوئی تفاسیر میں بیان ہو چکے ہیں اور اب مزید غور اور تحقیق کی ضرورت نہیں۔اس طرح انہوں نے اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی اس جاری نعمت کے دروازے خود ہی بند کر دیئے۔حضرت مصلح موعودؓ نے سختی سے اس رجحان کو رد کرتے ہوئے فرمایا وو مجھے اس خیال سے شدید ترین نفرت ہے کہ تفاسیر میں سب کچھ بیان ہو چکا ہے۔