سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 89 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 89

89 معاونت کرتے رہے، ان کی وفات کے بعد یہ سعادت مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب کو اور ان کے ساتھ کچھ اور اصحاب کو حاصل ہوئی۔حضور نے ۱۹۴۰ء کے جلسے سے قبل تفسیر کی پہلی جلد کی طباعت مکمل کرنے کا ارادہ فرمایا۔وقت بہت کم تھا اور کام کا بہت سا حصہ ابھی باقی تھا۔دن کا بہت سا حصہ تو دیگر اہم جماعتی مصروفیات میں صرف ہوتا۔اکثر اوقات حضور عشاء کے بعد تفسیر کا کام کرنا شروع فرماتے تو ۲ یا ۳ بجے تک کام کرنا پڑتا۔بعد میں جب کام کا دباؤ بڑھا تو بسا اوقات ایسا ہوا کہ عشاء کے بعد تفسیر لکھنے بیٹھے تو کام کرتے کرتے فجر کا وقت ہو گیا۔حضور کے ساتھ کام کرنے والے دیگر اصحاب بھی رات کے دو تین بجے تک کام کرتے رہتے اور بسا اوقات آدھی رات کے بعد بھی حضور کی خدمت میں راہنمائی کے لیئے حاضر ہوتے۔آخری دو ماہ میں تو بارہا ایسا ہوا کہ ساری رات میں آرام کے واسطے صرف کچھ لمحوں کے لئے کرسی پر اونگھنے کی فرصت ہی میسر ہوتی۔کثرت کار کی وجہ سے حضور کی طبیعت زیادہ علیل رہنے لگی لیکن خدمت قرآن کا یہ جہاد کبیر ایک عزم صمیم کے ساتھ آگے بڑھتا رہا۔۱۳ دسمبر کو حضور نے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ ابھی تفسیر کا کافی کام پڑا ہے اور جلسے میں تھوڑے دن باقی رہ گئے ہیں، اس کے بعد حضور نے ان الفاظ میں دعا کی تحریک فرمائی وپس بہت دعاؤں کی ضرورت ہے اس کام کی وجہ سے دوماہ سے انتہائی بوجھ مجھ پر اور ایک ماہ سے میرے ساتھ دوسرے کام کرنے والوں پر پڑا ہوا ہے۔یہ بوجھ عام انسانی طاقت سے بڑھا ہوا ہے اور زیادہ دیر تک برداشت کرنا مشکل ہے۔جب تک خدا تعالیٰ کا فضل اور نصرت نہ ہو۔۔۔میں اس سے زیادہ اس وقت کچھ نہیں کہہ سکتا۔کیونکہ اس وقت میری یہ حالت ہے کہ مجھے متلی ہو رہی ہے۔منہ کڑوا ہے۔سردی لگ رہی ہے۔اور اتنا بولنا بھی دوبھر ہے۔پھر میں ان دونوں باتوں کے لئے دعا کی تحریک کرتا ہوں یعنی خدا تعالیٰ جلسہ سالانہ تک مجھے تفسیر القرآن کے کام کو خیر و خوبی اور صحت کے ساتھ ختم کرنے کی توفیق دے۔اور جو میرے ساتھ کام کر رہے ہیں، انہیں اپنے فضل اور رحم سے اپنے پاس سے اجر عطا فرمائے۔(۷) اس سے اگلے خطبے میں آپ نے جماعت کو خوش خبری سنائی کہ جلد ہی تفسیر کی پہلی جلد لوگوں