سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 86 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 86

86 عالمگیر ہے اس لئے یہ پادری اسلام کو اپنی راہ میں سب سے بڑی روک سمجھتے تھے۔اس وجہ سے ان کے شدید ترین حملوں کا رخ آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس اور قرآن کریم کی طرف تھا۔تمام طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قرآن کریم پر ہر قسم کے حملے کئے گئے۔اس ضمن میں پہلا المیہ تو یہ تھا کہ عوام تو عوام عیسائی دنیا کے اہلِ علم حضرات اعتراضات کا انبار تو لگا دیتے لیکن قرآنِ مجید کے متعلق بنیادی علم سے بھی بے خبر ہوتے تھے۔اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ تھی کہ قرآن کریم کے بارے میں ان کے علم کا ماخذ خود عیسائیوں کے کیے ہوئے تراجم تھے۔اگر انگریزی زبان کے حوالے سے دیکھا جائے تو قرآن کریم کا پہلا انگریزی ترجمہ الیگزینڈر راس (Alexander Ross) نے ۱۶۴۹ء میں کیا تھا۔موصوف عربی زبان جانتے ہی نہیں تھے۔انہوں نے قرآن کریم کا ایک فرانسیسی ترجمہ لے کر اس سے اپنا انگریزی ترجمہ تیار کیا تھا۔اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کو فرانسیسی زبان پر بھی مطلوبہ عبور حاصل نہیں تھا۔نتیجہ یہ نکلا کہ ترجمہ نہایت غیر معیاری تھا۔اس ترجمے کے دیباچے میں راس کوئی علمی بحث تو نہیں اٹھا سکے البتہ قرآن کریم کے متعلق اخلاق سے گری ہوئی زبان استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا۔(۳) ۱۷۳۴ء میں جارج سیل (George Sale) کا ترجمہ شائع ہوا۔اس ترجمے کے ساتھ Preliminary Discourse کے نام سے ایک طویل دیباچہ بھی شامل تھا۔اس کا سرسری مطالعہ ہی اس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ مترجم مخالفانہ ذہنیت کے ساتھ لکھ رہا ہے۔سیل صاحب نے دعوئی تو یہ پیش کیا کہ انہوں نے براہ راست عربی سے انگریزی میں یہ ترجمہ کیا ہے اور اس ضمن میں انہوں نے بہت سی عربی کتب کے حوالے بھی دیئے جن سے انہوں نے استفادہ کیا تھا مگر بعد میں انگریز محققین نے ہی یہ ثابت کیا کہ سوائے بیضاوی کے انہوں نے بقیہ عربی کتب دیکھی ہی نہیں تھیں۔دراصل انہوں نے قرآنِ کریم کے ایک لاطینی ترجمے سے انگریزی میں ترجمہ کیا تھا اور اسی مترجم کے مختصر نوٹس سے استفادہ کر کے اپنے نوٹس تیار کیئے تھے (۴)۔اگر بجائے عربی سے براہ راست ترجمہ کرنے کے ، کوئی ترجمہ لاطینی جیسی مردہ زبان کے ترجمے سے کیا جائے گا تو وہ بہر حال درست نہیں ہو سکتا۔لیکن اس سرقہ کے باوجود سیل کے ترجمے کو مغربی دنیا میں بہت وقعت دی جاتی ہے اور اس پر بنیا د رکھ کر اپنی تحقیق کو اٹھایا جاتا ہے۔اسی ترجمے پر ریورنڈ وہیری (Reverend Wherry) نے ۱۸۸۱ء میں اپنی تفسیر لکھی۔وہ پنجاب میں