سلسلہ احمدیہ — Page 82
82 حَكَمًا عَدَلًا (انصاف سے فیصلہ کرنے والا) ہوگا اور وہ کسر صلیب کرے گا۔(۵) بالآخر اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہوئے اور حضرت مسیح موعود کا ظہور ہو ا۔اور آپ نے اسلامی شریعت کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے پیش فرمایا۔اور اس کے وہی ماخذ بیان فرمائے جو آنحضرت ﷺ نے مقرر فرمائے تھے۔جیسا کہ آپ فرماتے ہیں صلى الله ”ہمارے نزدیک تین چیزیں ہیں ایک کتاب اللہ دوسرے سنت یعنی رسول اللہ ہے کا عمل اور تیسرے حدیث‘(۶) اور قرآن مجید پر عمل کے متعلق آپ نے ارشاد فرمایا اور تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔جولوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔(۷) پھر آپ فرماتے ہیں۔”ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنیٰ درجے کی حدیث ہوا سپر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اس کو ترجیح دیں۔اور اگر حدیث میں کوئی مسئلہ نہ ملے اور نہ سنت میں اور نہ قرآن میں مل سکے تو اس صورت میں فقہ حنفی پر عمل کر لیں کیونکہ اس فرقہ کی کثرت خدا کے ارادہ پر دلالت کرتی ہے اور اگر بعض موجودہ تغیرات کی وجہ سے فقہ حنفی کوئی صحیح فتویٰ نہ دے سکے تو اس صورت میں علماء اس سلسلے کے اپنے خدا داداجتہاد سے کام لیں‘ (۸) حضرت مسیح موعود کی زندگی میں لوگ حضور کی خدمت میں اپنے سولات پیش کرتے۔آپ یا تو خود جواب مرحمت فرماتے یا پھر ارشاد فرماتے کہ مولوی صاحب ( یعنی حضرت خلیفۃ اسیح اول) سے پوچھ لو۔آپ کی خواہش تھی کہ جماعت کے علماء ایک کتاب فقہ کی سلیس اردو میں لکھیں تا کہ خاص و عام اس سے یکساں مستفید ہوں۔(۹) شرعی معاملات میں فتویٰ دینا ہر ایک کا کام نہیں۔ایک تو ہر شخص اس بات کی اہلیت بھی نہیں رکھتا کہ یہ نازک کام کرے اور دوسرے یہ کہ اگر ہر شخص یا مختلف