سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 709 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 709

709 مصل جنازہ حضرت مسیح موعود رضی اللہ عنہ حضرت مصلح موعودؓ کے چہرہ مبارک کی زیارت کے لئے دور دور سے آئے ہوئے احباب اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے تا کہ وہ اپنے محبوب امام کا آخری دیدار کر سکیں۔آخر وقت تک احباب بڑی تعداد میں ربوہ پہنچ رہے تھے۔جنازہ اُٹھانے کے مقررہ وقت یعنی ڈھائی بجے بعد دو پہر کو آخری زیارت کا سلسلہ مجبوراً بند کرنا پڑا۔آخری وقت پہنچنے والے بہت سے افراد کو زیارت سے محروم رہنا پڑا۔اس موقع پر محرومی دیدار سے احباب کا اضطراب ماحول کو اور بھی غمزدہ بنا رہا تھا۔وہ تڑپ تڑپ کر ڈیوٹی پر موجود احباب کی منتیں کرتے ہوئے بے حال ہورہے تھے۔ان احباب کو تسلی دینے اور سمجھانے میں بھی کچھ وقت لگا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھائیں۔اور پونے تین بجے خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد قصر خلافت کے اندر سے اُٹھا کر لائے۔پھر جنازہ احاطہ قصر خلافت کے غربی دروازہ سے باہر لایا گیا حضرت خلیفہ اسیح الثالث جنازہ کو کندھا دے رہے تھے۔نصرت گرلز اسکول کی سڑک سے ہوتے ہوئے جنازہ تحریک اور صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر کے درمیان کی سڑک سے گذر کر فضل عمر ہسپتال کے سامنے سڑک پر سے ہوتا ہوا بہشتی مقبرہ پہنچا۔سڑک کے دونوں طرف ہزاروں لوگ دو رو یہ کھڑے تھے۔آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور زبانوں پر درود شریف جاری تھا۔اُس وقت لوگوں کی کیا کیفیت تھی اس کا نقشہ ثاقب زیروی صاحب نے ان دو اشعار میں خوب کھینچا ہے ہونٹوں پر آہ سرد جبینوں پہ غم کی دھول آنکھوں میں سیل اشک چھپائے ہوئے چلا دن ڈھل گیا تو درد نصیبوں کا قافلہ کاندھوں پہ آفتاب اٹھائے ہوئے چلا جنازہ بہشتی مقبرہ پہنچا تو صفیں درست کی گئیں۔پچاس ہزار مرد احباب جنازہ میں شامل ہوئے۔صفوں کی ترتیب کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے نماز جنازہ پڑھانے سے قبل حضرت