سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 61 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 61

61 جلسه یوم پیشوایان مذاہب کا آغاز اسلام یہ نظریہ پیش کرتا ہے کہ ہر قوم میں اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول گذرے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے اِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (۱) یعنی کوئی امت نہیں مگر ضرور اس میں کوئی ڈرانے والا گزرا ہے۔اور پھر قرآنِ کریم میں تمام انبیاء کا احترام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور ان سب کے قابل احترام ہونے کی بابت یہ اعلان کیا گیا ہے لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمُ (۲) ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔لیکن یہ بہت بڑی بدنصیبی ہے کہ دنیا میں بالعموم اور ہندوستان میں بالخصوص بعض حلقوں کی طرف سے ایسا لٹریچر شائع کیا گیا جس میں مختلف انبیاء کی دل آزار طریق پر توہین کی گئی اور بعض تو اس حد تک گر گئے کہ انہوں نے ان مقدس ہستیوں کو گالیاں دینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔اس کے نتیجے میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہونا ایک قدرتی بات تھی۔ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہونے کی وجہ سے اس صورت حال نے فضا میں زہر گھول دیا تھا۔مختلف مذاہب کے پیروکاروں میں فاصلے بڑھنے لگے اور خونریز فسادات کی نوبت بھی آئی۔حضرت مسیح موعود نے تمام انبیاء کے احترام کے متعلق قرآنی صداقت کو نئے سرے نکھار کر دنیا کے سامنے پیش فرمایا اور یہ اعلان کیا کہ جیسے حضرت عیسی علیہ اسلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اسی طرح حضرت کرشن بھی اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول تھے۔اور باوا نانک صاحب بھی اللہ تعالیٰ کے نیک اور چنیدہ بزرگ تھے۔1900ء میں حضرت مسیح موعود نے اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ ایسے جلسے منعقد کیے جائیں جس میں ہر مذہب کے لوگ اپنے مذاہب اور پیشوایان مذاہب کی خوبیاں بیان کریں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں ”ہمارا ارادہ ہے کہ سال میں ایک یا دو دفعہ قادیان میں مذہبی تقریروں کا ایک جلسہ ہوا کرے اور اس جلسہ میں ہر ایک شخص مسلمانوں اور ہندوؤں اور آریوں اور عیسائیوں اور