سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 698 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 698

698 یورپ ، امریکہ اور افریقہ میں خاص طور پر زبر دست تبلیغی مساعی کیں اور اس مقصد کیلئے دو بار مغربی ممالک کا دورہ بھی کیا۔احمدیہ تبلیغی وفود کو افریقہ کے مغربی ساحل پر واقع ممالک میں خاصی کامیابی بھی ہوئی۔مرزا صاحب نے اپنی یادگار کے طور پر خاص مذہبی لٹریچر چھوڑا ہے۔انہوں نے سیاسی تحریکوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔۱۹۲۲ء میں انہوں نے یوپی میں آریہ سماجیوں کی شدھی سنکھٹن تحریک کا مقابلہ کیا اور ۱۹۳۱ء میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی قیادت کی اور ۱۹۴۸ء میں تحریک آزادی کشمیر میں حصہ لینے کیلئے احمدیہ رضا کاروں کی ایک بٹالین کی خدمات حکومت کو پیش کیں۔۔۔(۱) مشہور کالم نگارم ش صاحب نے اخبار نوائے وقت میں ان الفاظ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو خراج تحسین پیش کیا مرزا بشیر الدین محمود احمد نے ۱۹۱۴ء میں خلافت کی گدی پر متمکن ہونے کے بعد جس طرح اپنی جماعت کی تنظیم کی اور جس طرح صدرانجمن کو ایک فعال اور جاندار ادارہ بنایا اس سے ان کی بے پناہ تنظیمی قوت کا پتہ چلتا ہے۔اگر چہ ان کے پاس کسی یونیورسٹی کی ڈگری نہیں تھی لیکن انہوں نے پرائیویٹ طور پر مطالعہ کر کے اپنے آپ کو واقعی علامہ کہلانے کا مستحق بنا لیا تھا۔انہوں نے ایک دفعہ ایک انٹرویو میں مجھے بتایا تھا کہ میں نے انگریزی کی مہارت ”سول اینڈ ملٹری گزٹ کے باقاعدہ مطالعہ سے حاصل کی۔ان کے ارشاد کے مطابق جب تک یہ اخبار خواجہ نذیر احمد کے دور ملکیت میں بند نہیں ہو گیا انہوں نے اس کا با قاعدہ مطالعہ جاری رکھا۔۔۔۔۔مرزا صاحب ایک نہایت سلجھے ہوئے مقرر اور منجھے ہوئے نثر نگار تھے۔اور ہر ایک اس موقع کو بے دریغ استعمال کرتے تھے جس سے جماعت کی ترقی کی راہیں کھلتی ہوں۔جماعتی نقطہ نگاہ سے ان کا یہ ایک بڑا کارنامہ تھا کہ تقسیم برصغیر کے بعد جب قادیان ان سے چھن گیا تو تو انھوں نے ربوہ میں دوسرا مرکز قائم کرلیا۔۔۔(۲)