سلسلہ احمدیہ — Page 696
696 انتخاب خلافت ثالثه خوف کی حالت امن میں بدلی جاتی ہے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی علالت کی خبر سن کر احباب کثیر تعداد میں ربوہ پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔۸ نومبر کو ریڈیو پر حضور کے وصال کی خبر سن کر یا جماعت کے ذریعہ حضور کی وفات کی خبر ملنے پر احباب و خواتین ہزاروں کی تعداد میں مرکز آنا شروع ہو گئے۔۸ نومبر کو جب حضور کا وصال ہوا تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ مسجد مبارک میں جمع ہو گئے۔فجر کی نماز میں ابھی کچھ گھنٹے باقی تھے۔احباب نوافل ادا کرنے اور اپنے رب کے حضور دعائیں کرنے میں مشغول ہو گئے۔مسجد میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔بر شخص غم و اندوہ کی تصویر بنا ہوا تھا۔حضرت مصلح موعود کا دور خلافت ۵۲ سالوں پر محیط تھا۔احمدیوں کی اکثریت نے جب ہوش سنبھالی تھی یا جب بیعت کی تھی ، اس وقت سے انہوں نے آپ کے با برکت وجود کو مسند خلافت پر دیکھا تھا۔آپ کے روح پرور کلمات کوسن کر ان کے دل تسکین پاتے تھے اور آپ کا نورانی چہرہ دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی تھیں۔دنیا بھر کے احمدی جہاں کہیں بھی بستے ہوں یہ جانتے تھے کہ جب وہ سور ہے ہوتے ہیں تو ان کا امام جاگ کر ان کے لئے دعائیں کر رہا ہوتا ہے۔وہ غافل ہوتے ہیں تو وہ ڈھال بن کر اُن کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے۔خواہ ذاتی مشکل ہو یا جماعتی ابتلاء ہو ان کی نظریں راہنمائی کے لئے حضرت مصلح موعود کی طرف اُٹھتی تھیں۔ہزاروں نہیں لاکھوں ایسے تھے کہ وہ آپ کے دور خلافت میں پیدا ہوئے ، آپ کے دورِ خلافت میں ہی اُن کی جوانی کا دور گزرا اور آپ کے دور خلافت میں ہی وہ بڑھاپے میں بھی پہنچ گئے۔لیکن خدا کے سوا ہر چیز فانی ہے۔یہ امل تقدیر ہے کہ محبوب ترین اور مقدس ترین ہستیاں بھی ایک دن دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں۔اور ۸ نومبر کی درمیانی شب کو جب حضرت مصلح موعود کا وصال ہو ا تو اشکبار آنکھیں تو غیروں کو بھی نظر آ رہی تھیں لیکن جو عظیم خلا ہر احمدی کے دل میں تھا اسے