سلسلہ احمدیہ — Page 686
686 ہو گئے۔اس بات سے وہاں پر زیر تبلیغ افراد پر اچھا اثر پڑا۔جب دمشق میں جماعت کی تنظیم کے کام کا آغاز ہوا تو وہاں کے علماء اور مشائخ نے ایک شور ڈال دیا۔سید منیر الحصنی کے قتل کے منصوبے بنائے گئے۔مکرم چوہدری محمد شریف صاحب کو بھی دھمکی آمیز خطوط ملے۔اس کے باعث حکومت کی طرف سے یہ نوٹس جاری کیا کہ آپ یہاں پر تبلیغ نہ کریں ورنہ نتائج کی ذمہ داری آپ پر ہوگی۔اس بار اعلام تبلیغ کاسلسلہ بند کرنا پڑا۔انہی ایام میں ایک عالم الاستاذ شفیق شعیب احمدی ہو گئے۔اس پر علماء کا غصہ اور بھڑک اُٹھا۔اور ستمبر ۱۹۴۲ء میں مکرم سید منیر اکھنی صاحب ، شبیب صاحب اور مکرم عبدالرؤف صنی صاحب کو زدوکوب بھی کیا گیا۔اکتوبر ۱۹۴۲ء میں حضور نے مکرم چوہدری محمد شریف صاحب کو دمشق جانے کا ارشاد فرمایا۔جب وہ دمشق پہنچے تو علماء مخالفت پر کمر بستہ ہو چکے تھے۔چونکہ شام میں جماعت کی طرف سے کوئی ٹریکٹ یا کتاب شائع نہیں ہو سکتی تھی ، اس لئے علماء کو چیلنج دیا گیا کہ وہ مرد میدان بنیں اور با قاعدہ مناظرہ و مباہلہ کر لیں۔لیکن اس میں دمشق کے پچاس علماء شامل ہوں تا کہ لوگوں پر حق و باطل واضح ہو جائے۔لیکن علماء میں سے کوئی میدان میں نہ اترا۔بیدامر بالخصوص نو مبایعین کی تقویت ایمان کا باعث بنا۔۱۹۴۵ء میں مکرم شیخ نور احمد منیر احمد صاحب کو اور ۱۹۴۶ء میں مکرم رشید احمد چغتائی صاحب کو بلاد عر بیہ میں تبلیغ کے لئے بھجوایا گیا۔مکرم شیخ نور احمد منیر صاحب چند ماہ فلسطین میں خدمات سرانجام دینے کے بعد ستمبر ۱۹۴۶ء مین شام آگئے اور جماعت احمد یہ شام کو بیدار کرنے کے علاوہ اونچے طبقہ تک احمدیت کا پیغام پہنچاتے رہے۔مکرم مولانا شیخ نور احمد صاحب منیر نے ۱۹۵۷ء تک اور مکرم مولانا رشید احمد چغتائی صاحب نے ۱۹۵۱ء تک عرب ممالک میں خدمات سرانجام دیں۔اپریل ۱۹۴۷ء میں جماعت احمد یہ دمشق کے ناظم تبلیغ اور ایک بزرگ احمدی سید محمد علی بک الارناؤط کی وفات ہوئی۔آپ ایک رؤیا کی بنا پر احمدی ہوئے تھے۔اور آپ کی وفات پر وہاں کے اخبارات نے بھی اپنے کالموں میں آپ کی دینی اور ملی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔۱۵مئی ۱۹۴۸ء کو اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا گیا اور فلسطین خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ گیا۔احمدیوں کی اکثریت کہا بیر میں موجود تھی۔کہا بیر باقی ملک سے کٹ گیا۔پھر ایک وقت یہ حالت ہوئی کہ سوائے تین کے کباب بیر کے تمام احمدی دمشق میں آگئے۔جماعت کی طرف سے ان