سلسلہ احمدیہ — Page 679
679 پیدا کر دیں۔لیکن وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے۔“ پھر حضور نے انڈونیشیا کے متعلق فرمایا دنیا بھر میں اور کوئی علاقہ اسلامی مرکز ہونے کی اس قدر اہلیت نہیں رکھتا۔پس اس وقت اس بات کی سخت ضرورت ہے اخباروں میں رسالوں میں اپنے اجتماعوں میں مسلمان اپنے ان بھائیوں کے حق میں آواز اُٹھائیں اور ان کی آزادی کا مطالبہ کریں۔اگر اب ان کی مدد نہ کی گئی اور اگر اب ان کی حمایت نہ کی گئی تو مجھے خدشہ ہے کہ ڈچ ان کی آواز کو بالکل دبادیں گے۔۔۔۔انڈونیشیا کے لوگ خود بھی یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اب ہم اکیلے رہ گئے ہیں لیکن اگر دنیا میں ان کی حمایت میں اور ان کی تائید میں آوازیں بلند ہوں اور ایک شور برپا ہو جائے۔تو وہ دلیری اور بہادری سے مقابلہ کریں گے۔کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ ہم اکیلے نہیں لڑ رہے۔بلکہ ہمارے کچھ اور بھائی بھی ہماری پشت پر ہیں۔(۷) پاڈانگ ( سماٹرا) کے لئے مکرم محمد سعید انصاری صاحب کو مبلغ مقرر کیا گیا۔آپ جون ۱۹۴۸ء میں وہاں پہنچ گئے۔اسی سال مکرم ملک عزیز احمد صاحب کی کوششوں سے سورابایا میں جماعت کا قیام عمل میں آیا۔(۸) جنگِ آزادی کے دوران انڈونیشیا کی جماعتیں ایک منتشر حالت میں تھیں۔حالات ٹھیک ہونے پر اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ جماعتی کام کو ازسر نو منظم انداز میں شروع کیا جائے۔چنانچہ ان ضروریات کے پیش نظر نومبر ۱۹۴۹ء میں مکرم مولا نا رحمت علی صاحب کی صدارت میں انڈونیشیا کے مبلغین کی پہلی کانفرنس منعقد کی گئی۔اس کا نفرنس میں تبلیغ ، تربیت اور تنظیم کے لئے اہم منصوبے بنائے گئے۔(۹) اسی سال دسمبر کی ۹ سے ا تاریخوں جکارتہ میں جماعت احمدیہ انڈونیشیا کا پہلا جلسہ منعقد ہوا۔(۵) اپریل ۱۹۵۰ء میں مکرم مولا نا رحمت علی صاحب واپس مرکز تشریف لے آئے اور آپ کی جگہ مکرم سید شاہ محمد صاحب امیر و مشنری انچارج مقرر ہوئے۔(۵) جماعت احمد یہ بٹونگ نے ۱۹۴۸ء میں مسجد اور مشن ہاؤس کے لئے زمین خریدی اور ۱۹۵۰ء