سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 664 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 664

664 کچھ اور لوگ بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے۔اس کے بعد مکرم مولوی غلام احمد صاحب بشیر کو تبلیغی اور تربیتی دورہ پر ہیمبرگ جانے کا موقع ملا۔آپ نے دو ہفتہ کے لئے جرمنی میں قیام کیا اور آپ نے ہیمبرگ میں پہلی عید الفطر پڑھائی۔ابھی بھی حکام جماعت کو مشن کھولنے کی اجازت دینے پر تیار نہیں تھے اور بعض مجبوریاں بتا کر ٹالنے کی کوشش کرتے۔دوسری طرف عیسائیوں کی کئی تنظیمیں وہاں کام کر رہی تھیں ، انہیں حکام کی طرف سے ہر قسم کی سہولیات مہیا کی گئی تھیں مگر جماعت احمدیہ پر یہ دروازے بند تھے۔(۱) بالآخر ۱۹۴۹ء کے آغاز پر مکرم چوہدری عبدالطیف صاحب کو لمبے قیام کا ویزامل گیا اور اس طرح ایک طویل عرصہ کے بعد جرمنی میں جماعت کے مشن کا با قاعدہ آغاز ہوا۔مکرم چوہدری عبداللطیف صاحب جرمنی پہنچے تو سب سے پہلے رہائش کا مسئلہ حل کرنا تھا۔ہمبرگ میں کرایہ پر کمرہ ملا تو تبلیغی کاوشوں کا آغاز کیا گیا۔لیکچروں تبلیغی میٹنگوں اور انفرادی ملاقاتوں کے ذریعہ کام شروع ہوا۔جب کچھ میٹنگز منعقد ہو گئیں تو اس راہ میں بھی روک پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔جماعت کا مبلغ جہاں کہیں میٹنگ کے انعقاد کے لئے کمرہ کرایہ پر لینے جاتا تو جواب ملتا کہ کوئی کمرہ خالی نہیں ہے۔تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ چرچ نے ان لوگوں سے رابطے کر کے انہیں اکسایا ہے کہ وہ جماعت کے مبلغ کو اپنی جگہ کرائے پر نہ دیں۔مگر ان حرکتوں سے نہ جماعت کا کام رکنا تھا اور نہ رکا۔(۲) آغاز میں مکرم چوہدری عبد اللطیف صاحب نے زبان سیکھنے کی طرف توجہ کی اور بہت جلد ایسا ملکہ پیدا کر لیا کہ دوسروں تک اپنے خیالات پہنچا سکیں۔اس ملک میں تبلیغ کے لئے مختلف ذرائع استعمال کئے جارہے تھے۔انفرادی اور اجتمائی تبلیغ کے ذریعہ اہلِ جرمنی تک اسلام کا پیغام پہنچایا جا رہا تھا۔تبلیغی اجلاسات منعقد کئے جاتے اور مختلف انجمنوں میں تقاریر کا اہتمام کیا جاتا۔یومِ پیشوایان مذاہب جماعتی روایات کا ایک اہم حصہ ہے۔ان کے انعقاد کا سلسلہ جرمنی میں بھی شروع کیا گیا۔جب اس قسم کی تقریبات کی خبر اخبارات میں شائع ہوتی تو یہ اپنی ذات میں لوگوں تک احمدیت کا نام پہنچانے کا باعث بن جاتا۔اخبارات جماعت کے مبلغ کا انٹرویو لیتے اور ان کی اشاعت تبلیغ کا باعث بنتی۔ان کے علاوہ ریڈیو پر بھی متعدد مرتبہ مکرم چوہدری عبدالطیف صاحب کے انٹرویوز