سلسلہ احمدیہ — Page 660
660 کیونکہ یونانی میں عیسائی لٹریچر بہت موجود ہے۔( یہ شخص ایک زیر تبلیغ صحافی تھے جو یونانی جانتے تھے ) (۲۰) مغرب میں رہنے والے بعض احباب بھی تھے جو کہ اسلام کی صداقت کے تو قائل ہو جاتے مگر شراب نوشی یا اس جیسی کوئی اور بری عادت چھوڑ نا انہیں دو بھر معلوم ہوتا۔ایک ایسے ہی صاحب کا ذکر ایک رپورٹ میں کیا گیا تو اس پر حضور نے جواب میں تحریر فرمایا 'ان کو کہیں کہ انشاء اللہ شراب بھی چھٹ جائیگی۔رسول کریم ﷺ کے صحابہ آپ سے زیادہ شراب پیتے تھے۔ہمارا ایک انگریز مبلغ آرچرڈ ہے جس کا اسلامی نام بشیر احمد ہے۔وہ ٹرینیڈاڈ میں مبلغ ہیں۔جب وہ مسلمان ہوئے وہ انگریزی فوج میں ملازم ہو کر ہندوستان اور وہاں سے قادیان آیا۔وہاں کچھ دن رہا کچھ تو متاثر ہوا مگر پوری طرح دل صاف نہ ہوا۔واپس جاتے ہوئے وہ بیان کرتا ہے کہ ایک ریلوے سٹیشن پر اس نے شراب منگائی اور پینے لگا۔مگر دل میں یکدم نفرت پیدا ہوئی۔اور دل سے کہا کہ کیا تو اتنا کام بھی نہیں کر سکتا کہ شراب پھینک دے۔اس کے بعد اس نے اسلام قبول کر لیا اور شراب کلی طور پر چھوڑ دی۔وقف کر لیا اور اب مبلغ ہے۔لیکن ساتھ ہی لکھیں گواسلام نے شراب منع کی ہے لیکن اسلام انسانی کمزوریوں کا بھی اعلان کرتا ہے۔آپ اس کے چھوڑنے کی کوشش کریں۔اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں۔یقیناً آپ غالب آجائیں گے کبھی اس نوجوان کو ڈسمنڈ شا سے بھی ملائیں۔وہ بھی آئرش ہیں اور جیسا کہ اس نے بتایا تھا شراب چھوڑ چکے ہیں۔آپ نے مالٹا والے نو جوان کا ذکر نہیں کیا۔جو مصری الاصل تھا۔اور جس نے ڈرائنگ روم میں بیعت کی تھی۔اور جوٹرانسپورٹ میں نوکر تھا۔(۲۰) ایک مرتبہ محترم مولود احمد خان صاحب نے ۱۰ دسمبر ۱۹۵۵ء کو ایک رپورٹ بھیجوائی جس میں ایک بیعت کا ذکر کیا اور اپنی ایک تقریر کا بھی ذکر کیا جو برمنگھم یونیورسٹی میں ہوئی تھی اور اس کا عنوان مذہب کا اخلاقی قدروں سے تعلق تھا۔اس موقع پر ان کی کافی عراقی طلباء سے ملاقات ہوئی۔ان میں سے کچھ نے یہ سوال کیا کہ آپ مرزا صاحب کے الہامات کی موجودگی میں قرآن کریم کی طرف کیوں توجہ کرتے ہیں؟۔اس کے علاوہ ایک صاحب مسٹر بیکر نے Spiritualism کے متعلق