سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 653 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 653

653 مناظروں کے ذریعہ تبلیغ کا کام بھی جاری رہا۔بعض مرتبہ مد مقابل پادری صاحب تلخ کلامی پر بھی اُتر آتے مگر شمس صاحب متانت اور حوصلہ سے جواب دیتے جس سے سننے والوں پر بہت اچھا اثر ہوتا۔(۱) جن خطرناک حالات میں جماعت کے مبلغین کام کر رہے تھے، اس کا تقاضہ تھا کہ سب ان کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ۱۹۴۲ء کے ایک خطبہ میں فرمایا اسی طرح مولوی جلال الدین صاحب شمس ہیں۔انہوں نے بڑی عمر میں شادی کی۔اور دو تین سال بعد ہی انہیں تبلیغ کے لئے بھیج دیا گیا۔ان کے ایک بچے نے اپنے باپ کو نہیں دیکھا۔اور باپ نہیں جانتا کہ میرا بچہ کیسا ہے۔سوائے اس کے کہ تصویروں سے انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا ہو۔وہ بھی کئی سال سے باہر ہیں۔اور اب تو لڑائی کی وجہ سے ان کا آنا اور بھی مشکل ہے۔قائم مقام ہم بھیج نہیں سکتے۔اور خود وہ آنہیں سکتے کیونکہ راستے مخدوش ہیں۔اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ کب واپس آئیں گے۔۔۔۔۔ان لوگوں کی قربانیوں کا کم سے کم بدلہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کا ہر فرد یہ دعائیں کرے۔کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے اور ان کے اعزہ اور اقربا پر بھی رحم فرمائے۔۔میں تو سمجھتا ہوں کہ جو احمدی ان مبلغین کو اپنی دعاؤں میں یاد نہیں رکھتا اس کے ایمان میں ضرور کوئی نقص ہے اور مجھے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ایمان میں خلل واقعہ ہو چکا ہے۔(۲) اس وقت لندن میں مشن ہاؤس کن خطرات سے دوچار رہتا تھا اس کا اندازہ شمس صاحب کے اس مکتوب سے ہوتا ہے جو انہوں نے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں لکھا۔۱۸ فروری کو ہوائی حملہ کے بعد میں فروری کو رات کے دس بجے حملہ شروع ہوا۔حملہ پہلے کی طرح بہت سخت تھا۔میں اپنے مکان میں بیٹھا تھا۔کہ مکان کے اندر روشنی ہو گئی۔بہت سے فائرز چھوڑے گئے۔اور آگ لگانے والے بم برسائے گئے۔روشنی جو کمرہ کے اندر ہوئی اس سے یہی سمجھا کہ اب بم گریں گے۔گنز بھی فائر کر رہی تھیں۔چنانچہ کئی بموں کے گرنے کی آوازیں آئیں۔اور مکان کو جھٹکے آئے مگر اللہ تعالیٰ