سلسلہ احمدیہ — Page 649
649 آئے زیادہ عرصہ بھی نہیں گذرا تھا کہ انہیں معدہ کی تکلیف شروع ہوئی اور با وجود علاج معالجہ کے آپ ۵ ستمبر ۱۹۴۸ء کو خالق حقیقی سے جاملے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ آپ کے بھائی مرزا احمد شفیع صاحب ۱۹۴۷ء میں قادیان پر ایک حملہ کے دوران شہید ہوئے تھے۔(۳) مکرم چوہدری غلام یسین صاحب کو نئی جماعتوں کے دورے پر مقرر کیا گیا۔انہوں نے ان جماعتوں میں احباب جماعت کی تربیت کے علاوہ مختلف مقامات پر لیکچر بھی دیئے۔۱۹۴۸ء میں چوہدری خلیل احمد ناصر صاحب نے مکرم صوفی مطیع الرحمن صاحب سے چارج لے کر کام شروع کیا۔(۴) ستمبر ۱۹۴۸ء میں جماعت احمدیہ امریکہ کا پہلا جلسہ ڈیٹن منعقد ہوا۔اس میں نوے احمدیوں نے شرکت کی۔۱۹۴۹ء کے آخر میں امریکہ کے پہلے شخص نے اپنی زندگی وقف کی۔یہ دوست برادرم رشید احمد صاحب تھے۔وہ دینی تعلیم پانے کے لئے ۲۲ دسمبر ۱۹۴۹ء کور بوہ پہنچے۔امریکہ واپس آنے پر آپ کو سینٹ لوئیس میں آنریری مبلغ لگایا گیا اور سالہا سال آپ امریکہ کے نیشنل پریذیڈنٹ رہے۔(۵) دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی منظر پر امریکہ کی اہمیت پہلے سے بہت بڑھ گئی تھی۔دنیا میں جو ملک بھی آزاد ہوتا واشنگٹن میں اپنا سفارت خانہ ضرور کھولتا۔چنانچہ ۱۹۴۹ء میں جب مکرم خلیل احمد ناصر صاحب رخصت پر پاکستان گئے تو حضور نے انہیں واشنگٹن میں مکان خریدنے کا ارشاد فرمایا۔یہ مکان خریدا گیا اور کچھ مرمت کرا کر ۱۹۵۰ء میں امریکہ مشن کا ہیڈ کوارٹر شکاگو سے واشنگٹن میں منتقل ہو گیا۔(۶) مولا نا عبد القادر نیم صاحب ستمبر ۱۹۴۹ء کو امریکہ پہنچے انہیں مکرم مرزا منور احمد صاحب کی جگہ پٹس برگ میں مبلغ لگایا گیا۔۱۹۵۰ تک امریکہ میں جماعت کی تبلیغ کا دائرہ صرف مشرقی اور مڈویسٹ ریاستوں تک محدود تھا۔۱۹۵۱ء میں یہ دائرہ وسیع ہو کر مغربی ریاستوں تک پہنچا اور کیلیفورنیا میں ایک نیا مشن قائم کیا گیا۔لاس اینجلس میں ایک چھوٹی سی جماعت قائم ہوئی۔اور امریکہ کے جنوب میں ریاست ت کینٹی (Cantucky) میں بھی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔واشنگٹن میں بھی کچھ