سلسلہ احمدیہ — Page 648
امریکہ: 648 اب ہم ۱۹۴۰ء کی دہائی سے امریکہ میں احمدیت کی تبلیغ کا جائزہ لیتے ہیں۔جیسا کہ پہلے یہ ذکر کیا جا چکا ہے اس دور میں مکرم صوفی مطیع الرحمن بنگالی صاحب امریکہ میں جماعت کے مبلغ تھے۔اور آپ تبلیغ اور جماعت کی تربیت کے لئے انتھک کوششیں کر رہے تھے۔۱۹۳۳ء تک امریکہ کےسات شہروں میں جماعتیں قائم ہو چکی تھیں۔یہ سات شہر پٹس برگ ، واشنگٹن سٹو مین ول ( Stubin Youngis town will کلیو لینڈ (Cleve land) ، ہوم سٹیڈ، کینساس سٹی اور سنسنائی (Cincinnati) تھے۔شکاگو میں جماعت کا مرکزی مشن تھا۔(۱) ان کے علاوہ نیو یارک، ڈیٹن ، نیو جرسی اور فلاڈلفیا میں بھی صوفی مطیع الرحمن صاحب کے زمانے میں جماعتیں قائم ہوئیں۔یہاں کا مشن لٹریچر کی اشاعت کے لئے کوشاں تھا۔مشن کا ترجمان مسلم سن رائز شائع کیا جاتا تھا۔مکرم صوفی مطیع الرحمن صاحب نے آنحضرت ﷺ کی سیرت و سوانح پر ایک کتاب Life of Muhammad تالیف فرمائی جو بہت مقبول ہوئی۔۱۹۳۹ء میں حضرت عیسی کی صلیبی موت سے نجات کے بارہ میں ایک کتاب The Tomb of Jesus شائع کی گئی۔یہ کتاب بہت سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی حتی کہ مشہور سکالر ڈاکٹر ز ویمر نے یہاں تک کہا کہ اگر یہ کتاب کچی ہے تو عیسائیت جھوٹی ہے۔جنگ کے بعد ۱۹۴۶ء میں اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا گیا۔(۲) ۱۹۴۲ء میں بالٹی مور اور بوسٹن میں جماعتیں قائم ہوئیں۔اور ۱۹۴۶ء میں سینٹ لوئیس اور ۱۹۴۸ء میں نیو یارک میں جماعتیں قائم ہوئی۔دوسری جنگ عظیم کے دوران تو صرف مکرم صوفی مطیع الرحمن صاحب یہاں پر مرکزی مبلغ کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔جنگ کے اختتام پر جب حالات تبدیل ہونے شروع ہوئے تو ۱۹۴۶ء اور ۱۹۴۷ء میں دوسرے مبلغین کو امریکہ بھجوایا گیا۔چنانچہ ان دو سالوں میں مکرم چوہدری خلیل احمد صاحب، مکرم مرزا منور احمد صاحب اور چوہدری غلام یسین صاحب امریکہ پہنچے۔(۲) جو نئے مبلغین امریکہ کے لئے آئے تھے ان میں سے مرزا منور احمد صاحب کو پٹس برگ میں لگایا گیا تھا۔آپ نے اس پرانی جماعت میں جانفشانی سے کام شروع کیا۔ابھی انہیں امریکہ میں