سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 647 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 647

647 جنوبی افریقہ: اپنے مخصوص حالات اور تاریخ کی وجہ سے جنوبی افریقہ کا ملک افریقہ میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔یہاں پر مقامی آبادی کے علاوہ سفید فام باشندوں اور ایشیائی باشندوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔یہاں پر سب سے پہلے مکرم علاؤ الدین صاحب نے ۱۹۱۵ء میں احمدیت قبول کی۔انہوں نے رویا میں دیکھا کہ کسی نے انہیں کہا کہ کیا تم مرزا غلام احمد قادیانی کو جانتے ہو۔انہوں نے کہا کہ نام تو سنا ہوا ہے۔تو کہا گیا کہ وہ تمہارے سامنے کھڑے ہیں قیامت نزدیک ہے۔موجودہ خلیفہ کے ہاتھ پر جلد سلسلہ میں داخل ہو جاؤ ورنہ افسوس کرو گے۔لیکن یہ ایک بیعت تھی مگر ابھی جنوبی افریقہ میں جماعت قائم ہونے کا وقت نہیں آیا تھا۔پھر جنوبی افریقہ میں احمدیت کا تعارف مکرم ڈاکٹر یوسف سلیمان صاحب کے ذریعہ ہوا جو ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے انگلستان آئے تھے۔یہاں پر انکی ملاقات مکرم خواجہ کمال الدین صاحب سے ہوئی اور بعض دوسرے احمدیوں سے تعارف ہوا۔انہوں نے ۱۹۱۸ء میں حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب مبلغ انگلستان کے ذریعہ احمدیت قبول کی۔وہ ایک عرصہ انگلستان میں مقیم رہے اور پھر اُنکے دل میں خیال پیدا ہوا کہ دوسروں تک احمدیت کا پیغام پہنچائیں۔۱۹۴۶ء میں حج کے بعد وہ قادیان آئے اور حضور سے ملاقات کی اور یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ جنوبی افریقہ جا کر احمدیت کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں۔اور وہ ۱۳ اکتوبر ۱۹۴۶ء کو انگلستان سے جنوبی افریقہ کے لئے روانہ ہوئے۔جنوبی افریقہ پہنچ کر آپ نے بڑی محنت اور تندہی سے کام کیا۔اور چھ سال کے عرصہ میں کئی احباب سے احمدیت قبول کی۔ڈاکٹر یوسف سلیمان صاحب ۱۹۵۲ء میں انگلستان آئے ہوئے تھے کہ آپ کا انتقال ہو گیا اور جنازہ واپس جنوبی افریقہ لا یا گیا ، جہاں سینکڑوں مسلمانوں نے آپ کی نماز جنازہ ادا کی۔آپ کی وفات کے بعد ایک مخلص احمدی اور آپ کے دوست ہاشم ابراہیم صاحب نے آپ کے کام کو آگے بڑھایا۔اور تبلیغی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے۔۱۹۶۰ء میں جنوبی افریقہ میں لجنہ اماءاللہ کی تنظیم قائم کی گئی اور ۱۹۶۱ء میں مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام عمل میں آیا۔(۱) (۱) تاریخ جنوبی افریقہ مشن