سلسلہ احمدیہ — Page 642
642 چھوٹے مقامات پر کچی مساجد بھی قائم کی جا رہی تھیں۔۱۹۵۰ء میں ٹانگا نیکا میں ,Mingoyo Jangwani اور Lindi کے مقامات پر کچی مساجد تعمیر کی گئیں۔(۱۵) ۱۹۴۹ء میں یوگنڈا میں بھی جلسہ یومِ پیشوایان مذاہب کا آغاز ہوا۔اور یہاں پر بھی Nijemba اور Nakisamja مقامات پر بھی مساجد تعمیر کی گئیں۔(۱۷) جب جماعت کہیں پر ترقی کرتی ہے تو وہاں پر مسجد بنائی جاتی ہے اور پھر یہ مسجد مزید تبلیغ کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔۱۹۵۰ء میں کینیا کے علاقے میں چھوٹی بڑی مساجد کی تعمیر کا سلسلہ جاری تھا۔اس سال Rabor کے مقام پر ایک مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی اور Yala, Kisa اور Mrumba کے مقامات پر مساجد کا کام کافی حد تک مکمل ہوا۔(۱۸) بہت سے افریقن ممالک میں جماعت کی احمدیہ کی شدید مخالفت برصغیر بالخصوص پاکستان سے برآمد کی گئی تھی۔جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کینیا میں بھی مخالفت کی آگ بھڑ کانے میں برصغیر سے آئے ہوئے معاندین کا نمایاں ہاتھ تھا۔پہلے لال حسین اختر صاحب یہاں آئے اور اپنا سا زور لگا کر چلے گئے۔وہ سلسلہ کے ایک بد گو مخالف تھے۔جب وہ مشرقی افریقہ سے واپس ہوئے تو بھی مخالفت جاری رکھی اور ۱۹۵۳ء میں جماعت کے خلاف جو شورش بر پا کی گئی اس میں بھی حصہ لینا شروع کیا مگر تحقیقاتی عدالت کے مطابق جلد لوگ ان سے اس لئے بدظن ہو گئے کیونکہ انہوں نے اس تحریک کی طرف سے ایک خطیر رقم تو وصول کر لی مگر کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔(۱۹) جب معاندین نے دیکھا کہ مشرقی افریقہ میں احمدیت کے پاؤں جم رہے ہیں تو ۱۹۵۲ء میں ایک پاکستانی مولوی عبد العلیم صدیقی صاحب نیروبی میں نمودار ہوئے اور انہوں نے جامع مسجد نیروبی میں جماعت کے خلاف چند زہریلی تقاریر کیں اور ان میں طرح طرح کے الزامات لگائے۔اس کے جواب میں جماعت کی طرف سے انہیں بذریعہ اشتہار مناظرے کی دعوت دی گئی اور یہ دعوت دی گئی کہ مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب کے متعلق مجمع میں مؤکد بعذ اب قسم کھا ئیں اور پھر خدائی فیصلہ کا انتظار کریں۔اس کے جواب میں مولوی صاحب نے بجائے یہ چیلنج قبول کرنے کے لیت و لعل سے کام لینا شروع کیا اور یہ عجیب وغریب عذر پیش کیا کہ میں تو یہاں پردیسی ہوں چنانچہ پاکستان جا کر امام جماعت احمدیہ سے ہی مناظرہ کر سکتا ہوں ، میری طرف