سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 55 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 55

55 مشتمل ایک عبوری حکومت بنائیں گے۔تو ابولکلام آزاد صاحب جو اس وقت کانگرس کے صدر تھے بیان کرتے ہیں کہ اس وقت گاندھی جی اور ان کے ہم نوا جو پہلے مکمل عدم تشدد کے قائل تھے محض خاموش رہے اور اس تجویز کی کوئی مخالفت نہیں کی۔(۳۰) مستقبل کے متعلق حضور کا بیان فرمودہ تجزیہ: اس جنگ کے آغاز میں ابھی کسی پر بھی صورت حال پوری طرح واضح نہیں تھی۔ہر طرف سے قسم قسم کی قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں اور مختلف تجزیئے پیش کئے جا رہے تھے۔جو سیاستدان تمام معلومات سے باخبر بھی تھے وہ بھی وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے تھے کہ حالات کیا رخ اختیار کریں گے۔ستمبر ۱۹۳۹ء میں حضور نے رؤیا اور خدا داد فراست کی بنیاد پر صورت حال کا تجزیہ بیان فرمایا کہ آئیندہ حالات کیا رخ اختیار کر سکتے ہیں۔یکم ستمبر کے خطبے میں جبکہ ابھی صرف برطانیہ اور فرانس نے جرمنی کوالٹی میٹم ہی دیا تھا اور با قاعدہ اعلانِ جنگ بھی نہیں ہوا تھا اور دیگر ممالک تو ابھی تنازع میں شامل بھی نہیں ہوئے تھے، حضور نے فرمایا تھا کہ یہ ایام بہت نازک ہیں اور دنیا بالکل تباہی کے کنارے پر کھڑی ہے۔(۲۴،۲۶) پھر ۲۲ ستمبر کے خطبہ جمعہ میں آپ نے ایک پرانی رؤیا کو بیان کر کے فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں بہت بڑی تباہی آنے والی ہے اور فرمایا کہ اس وقت کئی حکومتیں ہیں جنہیں معلوم ہے کہ انہوں نے کس طرف جانا ہے مگر وہ ابھی اپنا ارادے ظاہر نہیں کر رہیں۔جو قو میں اس وقت اپنے آپ کو غیر جانبدار کہہ رہی ہیں وہ بھی اس جنگ کی لپیٹ میں آجائیں گی اور کوئی تعجب نہیں کہ ہندوستان تک بھی اس جنگ کا اثر پہنچے۔(۳۱) چنانچہ وقت نے ثابت کیا کہ جیسا کہ حضور نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا۔اس خطبے کے وقت تو ایک طرف جرمنی تھا اور دوسری طرف برطانیہ اور فرانس تھے۔روس نے پولینڈ کے ایک حصے کو ہتھیانے کے لئے اپنی فوجیں اتاری تھیں لیکن اس کا اس جنگ میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔لیکن بعد میں روس اتحادیوں کی طرف سے شامل ہوا اور اٹلی اور جاپان نے جرمنی کے ساتھ مل کر اعلانِ جنگ کر دیا۔امریکہ بھی بالآخر اتحادیوں کی طرف سے اس تنازع میں کود پڑا۔بعد میں ان ممالک کے علاوہ چین ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برازیل، کینیڈا، ہالینڈ،